بھارتی فوج اور میڈیا کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی، ’پہلگام حملے میں ملوث‘ جس ’پاک فوج کے حوالدار‘ کو مارنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا، وہ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے لائیو پریس کانفرنس میں ساری دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کی ابتدا ہی بھارتی فوج اور میڈیا کی جانب سے کشمیر میں ایک دہشت گرد کے مارے جانے اور اس کا تعلق پاکستان فوج سے ہونے کے دعوؤں سے کیا۔
بھارتی میڈیا نے ’مارے گئے شخص‘ کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے کی تھی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ضلع بڈگام کے علاقے کوراگ میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہوا۔
بھارتی میڈیا نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ آصف کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ تھا اور ماضی میں پاک فوج میں خدمات انجام دے چکا تھا۔ بھارتی حکام نے اسے اپریل 2025 میں پہلگام حملے سے بھی جوڑا ہے، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
Mohammad Asif alias Hashim Moosa was born on 07 March 1980. He joined the Pakistan Army in 2000 under service number PA-3106947 and retired with the rank of Havildar. In 2005, Mohammad Asif was inducted into the Special Services Group (SSG). He served with 4 Commando “Yalgar”… https://t.co/bQWmFFDuFF pic.twitter.com/dGgtr7fMeI
— ANI (@ANI) September 30, 2026
بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے جمعرات کو ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ محمد آصف 7 مارچ 1980 کو پیدا ہوا، 2000 میں پاک فوج میں بھرتی ہوا اور اس کا سروس نمبر PA-3106947 تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس نے حوالدار کے عہدے سے ریٹائرمنٹ لی۔
اسی طرح بھارتی فوج کی چنار کور نے بدھ کو دعویٰ کیا تھا کہ کوراگ اور یوسمرگ کے علاقے میں جھڑپ کے بعد تلاشی کارروائی کے دوران پالمايدان کے علاقے سے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کی لاش برآمد ہوئی۔ بھارتی فوج نے اسے لشکر طیبہ کا عسکریت پسند قرار دیا تھا۔
OP KORAG, Yousmarg
Based on specific intelligence input, a Joint Search Operation was launched by #IndianArmy, @JmuKmrPolice and @crpf_srinagar in general area Korag, Yousmarg.
Vigilant troops observed suspicious activity and upon being challenged, terrorists opened fire,…
— Chinar Corps🍁 – Indian Army (@ChinarcorpsIA) September 29, 2026
بھارت اس سے قبل بھی پاکستان پر22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے دہشتگرد حملے میں ملوث ہونے کے الزامات لگا چکا ہے۔ الزامات کے بعد مئی 2025 میں بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملے کیے تھے جس کا بھرپور جواب دیتے ہوئے پاکستان نے 6 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے تھے جن کی امریکی صدر ٹرمپ بھی مختلف اوقات پر تصدیق کر چکے ہیں۔
’یہ ہیں سپر مین‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی سرکاری دعوے کے بعد بھارتی میڈیا نے بھی معاملے کو بھرپور انداز میں رپورٹ کیا۔ نیوز 18، اسٹیٹس مین، انڈیا ٹوڈے، ہندوستان ٹائمز، اے بی پی لائیو اور انڈین ایکسپریس سمیت مختلف بھارتی میڈیا اداروں نے محمد آصف سے متعلق دعوے نشر کیے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی محمد آصف کی تصویر مختلف دعووں کے ساتھ شیئر کی گئی اور اسے مختلف واقعات سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ دعویٰ کیا گیا کہ موسیٰ سابق ایس ایس جی حوالدار ہے تو پاکستان نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ شخص کہاں ہے۔
انہوں نے میڈیا کے سامنے محمد آصف کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی ’سپر مین‘ ہے جسے بھارتی میڈیا نے ہلاک قرار دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی فوج کی چنار کور کے مطابق محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کی لاش 30 ستمبر کو برآمد ہوئی تھی۔
اس موقع پر سابق ایس ایس جی اہلکار حوالدار (ریٹائرڈ) محمد آصف نے بھی لائیو پریس کانفرنس میں بات کی اور بھارتی میڈیا کی جانب سے اپنی شہادت سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور بھارتی میڈیا نے ان کے بارے میں جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا۔
View this post on Instagram
’بھارتی میڈیا سے پتہ چلا میں مارا گیا ہوں‘
محمد آصف نے کہا کہ دوستوں نے انہیں فون کرکے بتایا کہ بھارتی میڈیا پر ان کی شہادت کی خبریں چل رہی ہیں، جس کے بعد انہیں مسلسل فون کالز موصول ہونا شروع ہوگئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دوستوں سے کہا کہ آپ فون پر مجھ سے بات بھی کر رہے ہیں اور بھارتی فوج کی خبر پر یقین بھی کر رہے ہیں۔ محمد آصف نے مزید کہا کہ وہ ایس ایس جی سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں اور وطن کی خاطر بہادری سے لڑ چکے ہیں۔
محمد آصف نے اپنی سروس کے بارے میں بتایا کہ وہ 2000 میں آرمی میں آرٹلری کے شعبے میں بھرتی ہوئے، 2005 میں ایس ایس جی جوائن کی اور 2023 میں ایس ایس جی سے ریٹائر ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد تین سال تک ایک نجی سکیورٹی کمپنی میں ڈیوٹی کی، جبکہ گزشتہ تین چار ماہ سے وہ اپنے گھر میں خاندان کے ساتھ پنڈی میں رہ رہے ہیں۔
View this post on Instagram
محمد آصف نے کہا کہ بھارت نے ان پر دہشتگردی سے متعلق جو الزام لگایا ہے، وہ انتہائی گھناؤنا اور جھوٹا الزام ہے۔
انہوں نے بھارتی میڈیا کے دعوے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ الحمدللہ زندہ ہیں اور میڈیا کے سامنے موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے شناختی کارڈ بھی موجود ہے۔
محمد آصف نے کہا کہ انہوں نے اپنی سروس کے دوران بہادری سے فرائض انجام دیے اور وہ ایس ایس جی کے جوان رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سامنے سے لڑنے والے ہیں، پیچھے سے وار کرنے والے نہیں۔ ان کے مطابق وہ ہمیشہ ملک اور وطن کی خاطر بہادری سے لڑے ہیں اور آئندہ بھی وطن کے لیے اپنی جان دینے کو تیار ہیں۔
کیا آصف بھارت کے خلاف قانونی کارروائی بھی کریں گے؟
پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا محمد آصف پر جھوٹے الزامات لگانے اور ان کو مارنے کا جھوٹا دعوے کرنے پر بھارت کے خلاف کوئی قانونی کارروائی بھی کی جائیگی تو اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ “اس سوال کا جواب تو محمد آصف ہی دیے سکتے ہیں۔
اس پر جب انہوں نے محمد آصف کو مخاطب کرتے ہوئے پنجابی میں کیا کہ ”یہ پوچھ رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ کیا کرنا ہے“ تو ہر طرف قہقہے بکھر گئے۔ محمد آصف کا کہنا تھا کہ ”جواب جنرل صاحب ہی دیں گے“ جس پر جنرل احمد شریف نے پھر پنجابی میں کہا کہ ”یہ ایس ایس جی کے کمانڈو ہیں، ان کے پاس بھارت کے لیے تھپڑ ہی ہے۔“
بھارت نے ایسا کیوں کیا؟
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس واقعے کو بھارتی دعوے قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر ایسے دعوے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ بھارت کی جانب سے اس نوعیت کے دعوے کیوں سامنے آتے ہیں اور اس کے پیچھے کیا مقصد ہوسکتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان کے مطابق اس کا ایک مقصد اپنے ہاں دہشتگردی کے مبینہ کردار سے توجہ ہٹانا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشتگردی کی سرپرستی، فنڈنگ اور منصوبہ بندی میں ملوث رہا ہے اور اس حوالے سے انہوں نے مکتی باہنی، ایل ٹی ٹی، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سب کو پتہ ہے کہ ان کو فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان کے مطابق دہشتگردی سے متعلق یہ معاملہ اب صرف خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اندرونی پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کے ویڈیو شواہد بھی پیش کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب کو سمجھنا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے، جہاں انسانیت سوز مظالم کشمیری عوام خود دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ہر واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی ایک وجہ پاکستان کے ساتھ اس کا حد سے بڑھا ہوا ’جنون‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے وقت کے ساتھ بھارت کو اس قدر زچ کیا ہے کہ وہاں کچھ بھی ہو تو الزام پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان کے ساتھ اس غیر معمولی مخاصمت نے بھارتی سیاسی اور عسکری قیادت کی سوچ اور صلاحیتوں کو محدود کردیا ہے۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ ہم بھارت بھارت کو پیار سے کہتے رہے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ اس جنون سے باہر نکلے اور ہر واقعے کو پاکستان سے جوڑنے سے گریز کرے۔ انہوں نے بھارت کو مشورہ دیا کہ اپنے داخلی مسائل پر توجہ دے نہ کہ ہر واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام حملے سے متعلق بھارتی الزامات پر شواہد پیش کرنے کا موقع بھی دیا۔ ”اگر بھارت کے پاس ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے، پاکستان کو نہیں دینے تو کسی تیسرے فریق کو پیش کردے لیکن ہردن صبح اٹھ کر پاکستان پر الزامات نہ لگانا شروع کر دے، ایسے نہیں ہوتا۔“
’ہندوستان سے انکاؤنٹرستان تک‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی الزامات کی ایک اور وجہ کو ’تھیٹر اور ڈرامے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اُڑی، چھتی سنگھ پورہ، راجوری اور ممبئی حملوں جیسے واقعات کے بعد بھارت بتدریج ’ہندوستان‘ سے ’انکاؤنٹرستان‘ بن گیا ہے۔
ان کے بقول بھارت میں اصل اہمیت واقعات کے حقائق کی نہیں بلکہ کہانی کی ہے، کیونکہ وہاں مبینہ مقابلوں اور ان سے جڑی کہانیوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کی چنار کور، پریس انفارمیشن بیورو، محکمہ داخلہ اور بھارتی میڈیا ایک ہی بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کہانی میں سنسنی، کارروائی اور تفریح کا عنصر ہونا چاہیے اور اس میں کسی پاکستانی کو بھی شامل کردیا جائے۔
ابھی نندن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ کیسا ملک ہے جو اپنا اعلیٰ ترین اعزاز بھی اس ابھی نندن کو دے رہا ہے جس نے ان کا جہاز تباہ کروایا۔
’فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں‘
جنرل احمد شریف سے پاکستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف لانگ مارچ کرنے جا رہی ہے جبکہ کچھ دن پہلے عمران خان سے کچھ اعلیٰ عسکری حکام کی اڈیالہ جیل میں ملاقاتیں ہونے کی بھی خبریں سامنے آئیں تھیں تو اس حوالے سے وہ کیا کہیں گے۔
View this post on Instagram
جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا کہ ”فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اور میں سیاست سے متعلق کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”میں نے کئی بار واضح کیا ہے کہ سیاست کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے، حکومتیں سیاستدانوں کی بنائی ہیں اور میں ایک مرتبہ پھر درخواست کروں گا کہ براہ پلیز ایسا (سیاسی سوال) نہ کریں۔“
’حرمین شریفین کا دفاع یقینی بنانے کیلئے تیار ہیں‘
کیا پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت فوجی دستے سعودی عرب بھیج رہا ہے، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کیلئے پرعزم ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حرمین شریفین کا دفاع اور مملکت سعودی عرب کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں۔
View this post on Instagram
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کا دفاع کرے گا اور اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پاکسان کی مسلح افواج کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پالیسی بالکل کلیئر ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے بھارت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا ایک ایسا ہمسائیہ ہے جو اپنے سیاسی عزائم کے لیے صرف جھوٹ بیچتا ہے اور زندہ محمد آصف کو دہشتگرد قرار دے کر مارنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”بھارت اگر کچھ کرنا چاہتاہے کہ تو آجائے پھر ہمارا ردعمل بھی بہت سخت ہوگا۔۔۔دشمن کے ہر اقدام کے لیے مکمل تیار ہیں۔۔۔یقین دلاتے ہیں کہ اس دفعہ کا ہمارا جواب بڑا درد ناک ہوگا۔“
’پاکستان کو افغان شہریوں سے کوئی مسئلہ نہیں‘
افغانستان میں حالیہ فضائی حملوں اور مستقبل میں زمینی کارروائی کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ”یہ ہم پر ہے کہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ کب اور کیا کرنا ہے۔“
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت نے دہشت گردی کی سرپرستی اور معاونت کا راستہ اختیار کیا ہے جبکہ پاکستانی شہریوں، بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کے تحفظ کے لیے ہمیں جو بھی اقدامات کرنا پڑے، وہ کریں گے اور اس کے لیے وقت، مقام اور طریقۂ کار کا تعین بھی خود کریں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ”پاکستان کو افغان عوام یا افغانستان سے کوئی مسئلہ نہیں، اس کا معاملہ افغان طالبان حکومت سے ہے“، جو افغانستان پر مسلط ہے اور غیر منتخب اور تمام طبقات کی شمولیت سے محروم ہے۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت نے القاعدہ، داعش خراسان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان سمیت مختلف دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دے رکھی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 26 اگست کو قندھار کے گورنر ملا شیرین کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں القاعدہ، بشیر زیب، گل بہادر اور افغان طالبان کے نمائندے شریک تھے، جہاں مشترکہ کارروائیوں کے لیے رابطہ کاری پر بات ہوئی۔
ان کے مطابق اجلاس میں بی ایل اے کی جانب سے بھرتیوں اور افرادی قوت کی کمی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، جس پر گل بہادر گروپ سے افرادی قوت فراہم کرنے کی بات ہوئی تاکہ انہیں بی ایل اے کی وردی پہنا کر استعمال کیا جاسکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بی ایل اے اور فتنۃ الخوارج کے نظریات اور مقاصد میں بظاہر کوئی مشترک بات نہیں، تاہم ان کے بقول ان گروہوں کو ملانے والی چیز پیسہ اور افغان طالبان کی سرپرستی ہے۔
انہوں نے عالمی میڈیا پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان سے سوال کرے کہ بشیر زیب اور نور ولی کہاں ہیں اور افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔ ”خواہ کوئی بھی ملک ہو، وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔“
