چارسدہ: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگایا گیا تو اس کا قانونی طور پر مقابلہ کیا جائے گا، صوبے میں عملاً گورنر راج نافذ ہے اور صوبائی حکومت کا اختیار بھی چھین لیا گیا ہے۔
چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پولیس بے بس ہے اوراحکامات کہیں اور سے آرہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت کے پاس اختیارات موجود نہیں رہے اور صوبے میں عملی طور پر گورنر راج کی صورتحال ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ملک میں شفاف انتخابات کرائے جائیں، عوام کو اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جائےخ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اور وزرا کو اٹھایا جا رہا ہے۔
اسد قیصر نے کہا کہ ملک میں آئین و قانون کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، سیاسی معاملات کو آئینی اور قانونی دائرے میں حل کیا جانا چاہیے، جمہوری نظام میں عوامی مینڈیٹ اور آئین کی بالادستی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں باضابطہ طور پر گورنر راج نافذ کیا گیا تو پی ٹی آئی اسے قانونی فورمز پر چیلنج کرے گی اور آئینی و قانونی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔
بانی پی ٹی آئی سے متعلق اسد قیصر کا کہنا تھا کہ انہیں تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔
اسد قیصر نے ملک میں جاری سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئینی حقوق اور جمہوری عمل کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے شفاف انتخابات اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔



