وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جبکہ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت بھی جاری ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق اسپیکر کی سربراہی میں اجلاس ہونے جا رہا ہے، جس میں پیپلزپارٹی کی جانب سے نوید قمر شریک ہوں گے، اجلاس میں قانون سازی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور امن و امان کی صورتحال کے باعث زیرِ غور ہے، ان کے بقول صوبائی حکومت کا وفاق کے ساتھ عدم تعاون بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تشویش ہے جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ اور چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کسی کو دینے کے مختلف امکانات پر غور کر رہی ہے۔
بی بی سی کے مطابق آئینی طور پر آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان صدرِ مملکت کرتے ہیں جبکہ بعض صورتوں میں پارلیمانی منظوری کا آئینی طریقہ بھی موجود ہے۔ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں الگ طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔
پی ٹی آئی کا اسلام آباد لانگ مارچ
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق حکومتی غور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
پی ٹی آئی نے ابتدا میں 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے فیصلے کے بعد مارچ کو ایک ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق اب لانگ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا۔
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ مارچ کا مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی، آئینی بالادستی اور دیگر سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج کرنا ہے۔
لانگ مارچ کی نئی تاریخ کے اعلان کے بعد خیبرپختونخوا میں بھی سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے 30 ستمبر کو کہا کہ لانگ مارچ پارٹی کا ’’سیاسی اور اٹل فیصلہ‘‘ ہے اور اسے پرامن رکھنے کی بات کی۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے لیے موجودہ صورتحال کو موزوں قرار نہیں دیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے رہنما شوکت یوسفزئی نے لانگ مارچ کو مزید مؤخر کرنے کی تجویز دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مارچ جاری رہنے کی صورت میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے تاہم واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایمرجنسی پر غور لانگ مارچ یا سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔



