وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ ملک کے میکرو اکنامک اشاریے مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے لندن اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت کی، جہاں پاکستان کے 3 ارب ڈالر کے ڈوئل ٹرینچ یوروبونڈز کی لسٹنگ کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔
لندن اسٹاک ایکسچینج میں مارکیٹ اوپننگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے سخت محنت کی ہے اور حالیہ معاشی اصلاحات کے نتیجے میں ملک کے اہم میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری آئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ لندن اسٹاک ایکسچینج کے ساتھ پاکستان کے تعلق کو دوبارہ مضبوط بنانا ایک قابلِ فخر لمحہ ہے۔ ان کے بقول پاکستان کا حالیہ 3 ارب ڈالر کا ڈوئل ٹرینچ یوروبونڈ معاشی پیش رفت اور حکومت کی اصلاحاتی کوششوں کا واضح ثبوت ہے۔
پاکستان نے رواں ماہ 3 ارب ڈالر کا یوروبونڈ جاری کیا، جو ملک کا اب تک کا سب سے بڑا ایک مرتبہ میں کیا جانے والا بین الاقوامی بانڈ اجرا ہے۔ اس میں 1.75 ارب ڈالر کا ساڑھے پانچ سالہ بانڈ 7.5 فیصد کوپن اور 1.25 ارب ڈالر کا 10 سالہ بانڈ 7.9 فیصد کوپن کے ساتھ شامل تھا۔
بانڈ اجرا کو عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے تقریباً 6 ارب ڈالر کی آرڈرز موصول ہوئیں، جو جاری کردہ رقم سے تقریباً دو گنا طلب کی عکاسی کرتی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ یوروبونڈ کا کامیاب اجرا حکومت کی جانب سے ساختی اصلاحات، معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن اور ایسے اقدامات کا نتیجہ ہے جن کا مقصد ملکی معیشت کو دوبارہ درست سمت پر گامزن کرنا ہے۔
انہوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، دیگر معاشی وزرا، وفاقی سیکریٹریز اور حکام کی کاوشوں کو بھی سراہا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے میکرو اکنامک اشاریے حوصلہ افزا ہیں اور مستقبل کے لیے اچھی بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔
خلیجی بحران کا حوالہ
خطاب کے دوران وزیراعظم نے خلیجی بحران کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر یہ بحران پیدا نہ ہوتا تو پاکستان اس سے کہیں زیادہ تیزی سے معاشی ترقی کی جانب بڑھ چکا ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت دیگر ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی خطے کی موجودہ صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹ رہی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالث اور امن کے فروغ میں کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور امید ہے کہ یہ کوششیں خطے میں زیادہ محفوظ صورتحال پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔
غیرملکی سرمایہ کاری پر زور
شہباز شریف نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں سرمایہ کاروں کو مختلف مارکیٹس کا جائزہ سلامتی اور تحفظ کے تناظر میں دوبارہ لینا ہوگا اور پاکستان غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے مواقع فراہم کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسی مارکیٹ ہے جہاں غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جاسکتا ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ اس سرمایہ کاری سے پاکستان اور سرمایہ کار دونوں کو فائدہ ہو۔
وزیراعظم نے لندن اسٹاک ایکسچینج اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دلچسپی صرف خودمختار قرض حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی مالیاتی مارکیٹس میں مزید رسائی کے لیے لندن اسٹاک ایکسچینج اور متعلقہ اداروں کی رہنمائی اور مشاورت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
نجکاری پروگرام میں سرمایہ کاری کی دعوت
وزیراعظم نے حکومت کے نجکاری پروگرام کو بھی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک موقع قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں کو نجی شعبے کے انتظام میں منتقل کرنے کی سمت میں پیش رفت کر رہی ہے اور حالیہ عرصے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا حوالہ دیا۔
شہباز شریف کے مطابق حکومت مزید ایسے سرکاری اداروں کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے جنہیں ان کے بقول نجی شعبے کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں چلایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ان اداروں کی نجکاری کے عمل میں عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرسکتا ہے اور نجکاری کے لیے پیش کیے جانے والے اداروں میں بین الاقوامی سرمایہ کاری بھی راغب کی جاسکتی ہے۔
عالمی قرض مارکیٹ میں پاکستان کی واپسی
حکومت گزشتہ چند برسوں کے دوران دوطرفہ اور کثیرالجہتی قرض دہندگان پر انحصار کے بعد پاکستان کے بیرونی فنانسنگ ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کررہی ہے۔
حالیہ 3 ارب ڈالر کے یوروبونڈ سے قبل پاکستان نے اپریل میں 750 ملین ڈالر کا تین سالہ یوروبونڈ جاری کیا تھا۔ اس کے ذریعے پاکستان تقریباً چار سال کے وقفے کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہوا تھا۔
وزارت خزانہ کے مطابق حالیہ بانڈ اجرا حکومت کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد بیرونی فنانسنگ کے ذرائع کو متنوع بنانا، قرضوں کی مدت میں توسیع کرنا اور قرضوں کی دوبارہ فنانسنگ اور رول اوور سے وابستہ خطرات کو کم کرنا ہے۔
حالیہ بانڈ اجرا سے قبل پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بھی متعدد مرتبہ بہتری ہوئی اور ملک کو عالمی کیپیٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی حاصل ہوئی۔
اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور ساختی تبدیلیوں کا مقصد مستقبل کی اقتصادی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی بحران سے پاکستان کو بھی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور ملک کو اپنی معیشت میں ایسی سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول کو فروغ دینا ہوگا جسے عالمی سرمایہ کار محفوظ اور پرکشش سمجھیں۔
لندن اسٹاک ایکسچینج کے سربراہ کو پاکستان دورے کی دعوت
وزیراعظم نے لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ شوئمر کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔
شہباز شریف نے کہا کہ ڈیوڈ شوئمر پاکستان سے واقف ہیں اور انہیں اپنے نوجوانی کے دور کی پاکستان سے وابستہ اچھی یادیں تازہ کرنے کے لیے ملک کا دورہ کرنا چاہیے۔
وزیراعظم نے لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ ڈیوڈ شوئمر کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت دیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس دورے سے پاکستان اور عالمی مالیاتی مارکیٹس کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حوالے سے تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
تقریب لندن اسٹاک ایکسچینج کے پیٹرنوسٹر اسکوائر میں واقع ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی، جہاں لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ شوئمر اور دیگر سینئر حکام نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
بانڈز کی لسٹنگ بین الاقوامی سرمایہ کاروں تک رسائی فراہم کرنے کا ایک ذریعہ
یوروبونڈ بنیادی طور پر کسی ملک یا ادارے کی جانب سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بیرونِ ملک کرنسی میں جاری کیا جانے والا قرضی سیکیورٹی آلہ ہوتا ہے۔ پاکستان اس سے قبل بھی عالمی مارکیٹ میں یوروبونڈز جاری کرکے مالی وسائل حاصل کرتا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے لندن اسٹاک ایکسچینج کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ لندن دنیا کے بڑے عالمی مالیاتی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور لندن اسٹاک ایکسچینج پر کسی ملک کے بانڈز کی لسٹنگ اسے بین الاقوامی سرمایہ کاروں تک رسائی فراہم کرنے کا ایک ذریعہ بنتی ہے۔
حالیہ 3 ارب ڈالر کے ڈوئل ٹرینچ یوروبونڈ کے اجرا کا مطلب ہے کہ پاکستان نے دو مختلف مدتوں کے بانڈز کے ذریعے عالمی مارکیٹ سے فنڈز حاصل کیے۔ اس طرح کے بانڈ اجرا میں سرمایہ کاروں کی طلب، شرحِ منافع اور عالمی مالیاتی حالات پاکستان کے لیے قرض کی لاگت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
وزیراعظم کی تقریب میں شرکت کے حوالے سے حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اس سے پاکستان کے مالیاتی اور سرمایہ کاری کے شعبے میں لندن کے اداروں کے ساتھ روابط مزید مضبوط ہوں گے۔



