پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قرض پروگرام کے چوتھے جائزے کے مذاکرات کا آغاز ہو گیا۔ پاکستان جائزوں کی تکمیل کے بعد 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے آئی ایم ایف مشن کی سربراہ آئیوا پیٹرووا نے ملاقات کی ، وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف ٹیم کو حالیہ معاشی اشاریوں، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور سرمایہ کاری کے ماحول میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
آئی ایم ایف مشن 23 ستمبر کو اسلام آباد پہنچا تھا، مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان کو محصولات کے اہداف پورے کرنے اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کئی زیر التوا ادارہ جاتی اصلاحات مکمل کرنے کا دباؤ ہے۔
آئی ایم ایف مشن پاکستان کے ای ایف ایف پروگرام کے چوتھے جائزے کے ساتھ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے کے لیے بھی مذاکرات کر رہا ہے۔
Federal Minister for Finance and Revenue, Senator Muhammad Aurangzeb, today held a kick-off meeting with the International Monetary Fund (IMF) mission, led by Ms. Iva Petrova. The IMF mission is in Islamabad for the fourth review of Pakistan’s Extended Fund Facility (EFF) arrangement and the third review of the Resilience and Sustainability Facility (RSF).
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) September 29, 2026
جائزوں کی کامیاب تکمیل سے ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلٹی ( ای ایف ایف) کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 20 کروڑ ڈالر جاری ہونے کا امکان ہے تاہم رقوم کی فراہمی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہو گی۔
آئی ایم ایف پاکستان کی ٹیکس اصلاحات، مالیاتی استحکام، سرکاری اداروں، توانائی کے شعبے اور پروگرام کے تحت طے کی گئی دیگر اصلاحات میں پیشرفت کا بھی جائزہ لے گا۔
موجودہ 7 ارب ڈالر کا ای ایف ایف پروگرام آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے ستمبر 2024 میں منظور کیا تھا، جس کی مدت 37 ماہ ہے۔ جبکہ 1.4 ارب ڈالر کا آر ایس ایف پروگرام مارچ 2025 میں منظور کیا گیا تھا۔
موجودہ جائزے کے مذاکرات کئی ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے بعد آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ معاہدہ طے پانے کی صورت میں بھی فنڈز کے اجرا سے قبل آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری ضروری ہو گی۔
آئی ایم ایف وفد آج ایف بی آر حکام سے بھی مذاکرات کرے گا، جس میں نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور ڈیجیٹل انوائسنگ نظام پر بریفنگ دی جائے گی۔



