ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی اہلیہ سیتی حسماہ محمد علی انتقال کرگئیں، وہ 100 برس کی تھیں۔
سیتی حسماہ محمد علی کے انتقال کی اطلاع مہاتیر محمد کے دفتر کی جانب سے دی گئی۔ ان کا انتقال پیر کو ہوا جبکہ ان کی نماز جنازہ اور تدفین بھی پیر کی شام ملائیشیا کے انتظامی دارالحکومت پوترجایا کے قبرستان میں کی گئی۔
— Dr Mahathir Mohamad (@chedetofficial) September 29, 2026
سیتی حسماہ اپنی الگ شناخت رکھنے والی مقبول شخصیت تھیں۔ انہیں سادہ مزاجی اور خوش مزاجی کے لیے جانا جاتا تھا جو ان کے شوہر مہاتیر محمد کے دوٹوک اور سخت انداز سے مختلف تھی۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے سیتی حسماہ محمد علی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم سیتی حسماہ کی ماں جیسی شخصیت کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور ملک کے لیے ان کی خدمات اور کردار کو سراہتی رہے گی۔
Kita kehilangan seorang ibu yang kasihnya menyentuh setiap jiwa. Budi, pesan dan senyuman Kak Hasmah akan terus hidup dalam ingatan. Selamat berehat di negeri abadi, Kak Hasmah. Al-Fatihah. pic.twitter.com/T07ikBPwXc
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) September 29, 2026
سیتی حسماہ محمد علی کے شوہر مہاتیر محمد کی عمر 101 برس ہے۔ انہیں اکثر ملائیشیا کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ وہ دو مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہے اور مجموعی طور پر دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے۔
مہاتیر محمد کا سیاسی سفر
مہاتیر محمد نے پہلی مرتبہ 1981 میں ملائیشیا کی وزارت عظمیٰ سنبھالی اور 2003 تک اس منصب پر فائز رہے۔ ان کے پہلے دور حکومت کے دوران ملائیشیا نے تیز رفتار صنعتی ترقی کا دور دیکھا اور ملک جنوب مشرقی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہوا۔
مہاتیر محمد نے 2018 میں سیاسی ریٹائرمنٹ سے واپسی کی اور اس وقت کے وزیراعظم نجیب رزاق کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن اتحاد کی قیادت کی۔ نجیب رزاق کا نام اربوں ڈالر کے 1MDB مالی اسکینڈل سے منسلک رہا۔
2018 میں دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد مہاتیر محمد دنیا کے معمر ترین وزیراعظم بن گئے تھے، تاہم ان کا دوسرا دور حکومت دو سال سے بھی کم عرصے تک جاری رہا۔ 2020 میں ان کا سیاسی اتحاد اندرونی اختلافات کے باعث ٹوٹ گیا، جس کے بعد ان کی دوسری وزارت عظمیٰ ختم ہوگئی۔
سیتی حسماہ اور مہاتیر محمد کی ملاقات
مہاتیر محمد اور سیتی حسماہ کی ملاقات 1940 کی دہائی کے اواخر میں اس وقت ہوئی جب دونوں سنگاپور میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
Saya tak sangka Hasmah meninggal dunia, kata Dr M#BeritaFMT https://t.co/5BbnVhQZ3L pic.twitter.com/39Xrnrjrer
— Free Malaysia Today (@fmtoday) September 29, 2026
دونوں نے اگست میں اپنی شادی کی 70ویں سالگرہ منائی تھی۔ ان کے سات بچے ہیں، جن میں کاروباری شخصیت مخزانی مہاتیر، سماجی کارکن مرینا مہاتیر اور سیاست دان مخریز مہاتیر شامل ہیں۔
صحت عامہ کے شعبے میں خدمات
سیتی حسماہ محمد علی نے طبی شعبے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ مہاتیر محمد کی آبائی ریاست قدح میں میڈیکل افسر کے طور پر تعینات ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔
مہاتیر محمد کی سیاسی زندگی کے دوران سیتی حسماہ نے صحت عامہ سے متعلق مختلف سماجی معاملات پر کام کیا۔ انہوں نے بالخصوص ماں اور بچے کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر سماجی امور کے لیے آواز اٹھائی۔
مہاتیر محمد ماضی میں سیتی حسماہ کو اپنی کامیابی کی بنیاد قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے ان کی یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنے کے عزم کو سراہا تھا، کیونکہ اس زمانے میں نسلی طور پر ملائی خواتین میں یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنا عام نہیں تھا۔
مہاتیر محمد نے 2018 میں سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی تعلیمی جدوجہد کا ذکر کیا اور کہا تھا کہ یہ ان کے مضبوط کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
