میانمار میں باغیوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کی شورش زدہ راکھین ریاست میں مارکیٹ کے قریب فوج کے فضائی حملے میں کم از کم 33 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوگئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق میانمار کی فوج نے ملک کی شورش زدہ راکھین ریاست میں بنگلا دیش کی سرحد کے قریب ایک مارکیٹ کے نزدیک فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
راکھین ریاست کے شہر کیاوک تاؤ میں ہونے والے فضائی حملے میں کم از کم 33 افراد کے ہلاک اور 36 کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق علاقے میں کام کرنے والے ایک مقامی امدادی کارکن نے بھی کی ہے۔
میانمار میں فوج کے خلاف لڑنے والے باغی گروپ اراکان آرمی کے مطابق فضائی حملے میں کم از کم 33 افراد ہلاک جبکہ 36 زخمی ہوئے ہیں۔ اراکان آرمی راکھین ریاست کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے اور میانمار کی فوج کے خلاف مسلح کارروائیوں میں مصروف ہے۔
مقامی امدادی کارکن وائی ہن آنگ نے بھی ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق ان کی ایک ٹیم کیاوک تاؤ کے علاقے میں امدادی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے اور وہاں ہونے والے نقصان کے بارے میں معلومات حاصل کی گئی ہیں۔
وائی ہن آنگ نے کہا کہ کیاوک تاؤ میں ہونے والا یہ حملہ ایسے علاقے میں ہوا جو جاری لڑائی سے کافی دور ہے۔ ان کے بقول،”یہ مقام لڑائی سے کافی دور ہے اور اس کا تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔”
کیاوک تاؤ راکھین ریاست کے شمالی حصے میں واقع دریا کے کنارے ایک شہر ہے۔ اراکان آرمی اور مقامی امدادی کارکن کے مطابق اس علاقے میں ہونے والا فضائی حملہ راکھین ریاست میں حالیہ عرصے کے مہلک ترین فضائی حملوں میں شامل ہے۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں راکھین ریاست کے مغربی علاقے میں ایک اسپتال پر فضائی حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
رائٹرز واقعے کی تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔ میانمار کی حکومت کے ترجمان نے بھی فوری طور پر تبصرے کے لیے رائٹرز کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
میانمار کی حکومت اس سے قبل کہہ چکی ہے کہ فوج شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط کرتی ہے۔
میانمار میں اپوزیشن کو فنڈنگ کے خلاف کارروائی
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق میانمار کی فوج کی حمایت یافتہ حکومت نے آن لائن فنڈ ریزنگ پلیٹ فارم کو رقم منتقل کرنے کے الزام میں 21 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
سرکاری اخبار گلوبل نیو لائٹ آف میانمار نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد پر اپوزیشن کی نیشنل یونٹی گورنمنٹ (این یو جی) سے منسلک آن لائن فنڈ ریزنگ پلیٹ فارم کو مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق حکام نے 2 ہزار 700 سے زائد ایسے افراد کی بھی شناخت کی ہیں جنہوں نے مبینہ طور پرپیپلز ریوولوشن سپلائی فیملی (PRF)نامی ویب سائٹ کو مالی معاونت فراہم کی۔ یہ ویب سائٹ نیشنل یونٹی گورنمنٹ نے قائم کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق گرفتار افراد میانمار کے مختلف ٹاؤن شپ میں رہائش پذیر ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حکام کی جانب سے تحقیقات جاری رکھنے کا بھی کہا گیا ہے جبکہ فنڈنگ سے منسلک مالی اکاؤنٹس کو بند کرکے ضبط کرنے کی کارروائی بھی کی جائے گی۔
نیشنل یونٹی گورنمنٹ نے فوری طور پر رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
میانمار میں سیاسی بحران اور مسلح تنازع
میانمار میں سیاسی بحران اور مسلح تنازع فروری 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد شدت اختیار کرگیا تھا۔ فوج نے اس وقت منتخب سول حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں فوج مخالف گروہوں اور مسلح تنظیموں نے مزاحمت شروع کردی۔
نیشنل یونٹی گورنمنٹ ایک متوازی سول انتظامیہ ہے جو آنگ سان سوچی کی جماعت کے سابق ارکان اور فوج مخالف گروہوں کے ذریعے تشکیل دی گئی۔ این یو جی سے منسلک پیپلز ڈیفنس فورس اور مختلف نسلی مسلح تنظیمیں ملک کے مختلف علاقوں میں میانمار کی فوج کے خلاف لڑ رہی ہیں۔
فوجی حکومت نے بغاوت کے بعد نیشنل یونٹی گورنمنٹ اور اس کے اتحادیوں کو ’دہشت گرد تنظیمیں‘ قرار دے دیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق اپوزیشن گروپس طویل عرصے سے میانمار کے فوج کے زیر کنٹرول بینکاری نظام سے باہر رہتے ہوئے مالی وسائل جمع کرنے کے لیے غیر رسمی ادائیگی کے ذرائع، آن لائن فنڈ ریزنگ، کرپٹو کرنسی اور بانڈز کی فروخت سمیت مختلف طریقے استعمال کرتے رہے ہیں۔
بیرون ملک مقیم میانمار کے شہری بھی اپوزیشن گروپس کی مالی معاونت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور بیرون ملک سے رقوم کی منتقلی سمیت متبادل مالیاتی ذرائع کے ذریعے انہیں مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔
دوسری جانب میانمار کی فوجی حمایت یافتہ حکومت نے ملک میں جاری لڑائی ختم کرنے کے لیے علاقائی تنظیم آسیان کے امن منصوبے کو بھی مسترد کردیا ہے۔


