واشنگٹن: چین اور امریکا نے ایک دوسرے سے درآمد کی جانے والی 60 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر عائد ٹیرف میں کمی پر اتفاق کر لیا، معاہدے میں امریکی مکئی، گندم، گوشت اور ڈیری مصنوعات سے لے کر چینی گھریلو آلات اور کھلونوں تک متعدد اشیا شامل ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے کہا کہ دونوں ممالک نے 30،30 ارب ڈالر کی غیر حساس تجارتی اشیا کو زیادہ سازگار ٹیرف کے لیے تجویز کیا ہے۔ اور اس اقدام سے چین کو امریکی برآمدات کے تقریباً 30 فیصد کے لیے مارکیٹ تک رسائی بہتر ہو گی۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ فہرست کے مطابق چین امریکی مکئی، گندم، جوار، گوشت، ڈیری مصنوعات، سبزیوں کے تیل اور دیگر زرعی اشیا پر درآمدی محصولات کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم امریکی سویابین اس فہرست میں شامل نہیں۔
چین کی جانب سے امریکی مچھلی اور سمندری خوراک، لکڑی، کاسمیٹکس اور طبی آلات پر بھی محصولات کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے چین سے درآمد ہونے والے کافی میکرز، ٹوسٹرز، برتن، کمبل، بیڈ لینن، کھلونے، آتش بازی، مصنوعی پھول، کرسمس لائٹس اور بچوں کی کار سیٹس سمیت مختلف اشیا پر ٹیرف میں کمی کی فہرست جاری کی ہے۔
تجارتی جنگ بندی میں توسیع
چین کی وزارت تجارت کے مطابق امریکا اور چین نے تجارتی جنگ بندی میں 10 جنوری تک دو ماہ کی توسیع پر بھی اتفاق کیا ہے۔ جبکہ توسیع سے دونوں ممالک کو موجودہ تجارتی انتظامات کا جائزہ لینے اور اقتصادی و تجارتی معاملات کے حل کے لیے مزید مذاکرات کا موقع ملے گا۔
چینی وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک سرمایہ کاری کے مواقع اور تجارتی رکاوٹوں پر باقاعدہ مذاکرات کریں گے، جبکہ پالیسیوں میں شفافیت اور پیش گوئی کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
امریکا سے کوئلے کی درآمد کا معاہدہ
وائٹ ہاؤس کے مطابق چین 2027 اور 2028 میں امریکا سے سالانہ ایک کروڑ میٹرک ٹن کوئلہ درآمد کرے گا، جو چین کی سالانہ کوئلہ درآمدات کا تقریباً 2 فیصد بنتا ہے۔
چینی وزارت تجارت کے مطابق امریکی کوئلہ ملکی مارکیٹ کے لیے اضافی ذریعہ فراہم کرنے کے ساتھ امریکی کوئلہ صنعت کے لیے آمدنی اور روزگار کا ذریعہ بھی بنے گا۔ تاہم مائع قدرتی گیس اور تیل کو ٹیرف میں کمی کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔
مصنوعی ذہانت اور پروازوں پر بھی بات چیت
چین اور امریکا نے مصنوعی ذہانت سے متعلق واقعات پر رابطے کے لیے ایک مواصلاتی نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ نومبر کے اختتام تک مزید مذاکرات بھی ہوں گے۔
چین امریکی سرمایہ رکھنے والے مالیاتی اداروں سمیت غیر ملکی مالیاتی سروسز کمپنیوں کو چین میں کاروبار اور برانچیں کھولنے کی منظوری دینے کے معاملات کا بھی جائزہ لے گا۔
دونوں ممالک نے چین اور امریکا کے درمیان براہِ راست پروازوں میں اضافے کے معاملے پر بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔



