واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا۔
امریکی سینٹ کام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے پاس مؤثر بحریہ موجود نہیں جبکہ امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی بحری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول نہ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہزاروں تجارتی جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر چکے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے واضح کیا کہ امریکی اور اتحادی افواج نے آبنائے ہرمز سے 2 ہزار سے زائد تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت میں معاونت کی، جبکہ ایک ارب بیرل سے زائد خام تیل بھی اسی راستے منتقل کیا جاچکا ہے۔
سینٹ کام نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی مرکزی گزرگاہوں کو بارودی سرنگوں سے صاف کیا جاچکا ہے اور امریکی و اتحادی افواج تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہیں۔
🚫 CLAIM: A senior Islamic Revolutionary Guard Corps commander said today that Iran has full control over the Strait of Hormuz through Iran’s “navy.” This is FALSE.
✅ FACT: Iran has no navy because American forces sank it. And Iran does not control the Strait of Hormuz as… pic.twitter.com/n1sE4goDY1
— U.S. Central Command (@CENTCOM) September 28, 2026
آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا ایرانی دعویٰ
ایرانی فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی تیاریاں مکمل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا مغربی حصہ، خود آبنائے اور خلیج فارس اسلامی انقلابی گارڈ کور کی بحریہ کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔ جبکہ آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے اور شمالی بحرہند پر ایرانی فوج کی بحریہ کا کنٹرول ہے۔
ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایرانی افواج بحیرہ عمان کے شمالی حصے اور آبنائے ہرمز کے مشرق میں بھی بھرپور طاقت کے ساتھ موجود ہیں اور کسی کو گزرنے نہیں دیں گے۔ ایرانی فوج نے اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرلی ہے اور انہیں دور کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فوج اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ تیار ہے اور مستقبل میں سامنے آنے والے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کا اہم مرکز ہے۔ حالیہ دنوں میں اس آبی گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کو اپنی شرائط اور امریکی فوجی دباؤ میں کمی سے مشروط کیا ہے۔



