اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اگر آئین کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پیدا ہوئی اور مقررہ آئینی شرائط پوری ہوئیں تو ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئین میں طریقہ کار بالکل واضح ہے اور اس معاملے میں آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ اگر حالات آئینی طور پر ایسے اقدام کا تقاضا کرتے ہیں تو آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ آئین میں اس حوالے سے مکمل میکنزم موجود ہے، جب بھی آئینی حالات اور تقاضے اس کا مطالبہ کریں گے تو اسی طریقہ کار کے تحت ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دی تھی، جسے اب 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو کسی صورت اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ موجودہ حالات کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی باز گشت ہے۔ اور مختلف ذرائع سے صوبے میں گورنر راج کی خبریں زیرگردش ہیں۔ اس حوالے سے سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی بیانات دے چکے ہیں۔
ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، سہیل آفریدی
اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریئے سے ہٹا دے، گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اپنی پالیسی تبدیل کرے اور پالیسی شفٹ لائیں، اپنے فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو مزید خون خرابے سے بچائیں، جبکہ پالیسی میں تبدیلی خیبر پختونخوا کے ساتھ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے۔
بانی پی ٹی آئی کا حکم ملا تو دوبارہ وزارت اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھال سکتا ہوں، علی امین گنڈاپور
سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حکم پر وزارت اعلیٰ کا عہدہ چھوڑا تھا اور اگر بانی کی جانب سے دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کا حکم ملا تو وہ یہ ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی کی کوئی خاص تیاری نہیں تھی اور مارچ کی تاریخ تبدیل ہونے سے پارٹی کمزور ہوئی ہے۔



