اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیراعظم کے معاون اختیار ولی خان نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی اور صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں بدانتظامی عروج پر ہے اور حکومت کو صوبے کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اختیار ولی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات کیا ہیں؟ صوبے میں منشیات کی اسمگلنگ عروج پر ہے جبکہ امن و امان کی صورتحال بھی ٹھیک نہیں۔
انہوں نے سکیورٹی کے مسئلے پر کہا کہ خیبرپختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو نظرانداز کیا گیا، جس کے باعث صوبے کے ادارے کمزور ہو رہے ہیں۔ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال بتدریج زوال پذیر ہے اور دہشت گردی کے حملوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ صوبے میں امن کا گراف بھی گر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2025 میں خیبرپختونخوا میں 63 پولیس اہلکار شہید اور 122 زخمی ہوئے۔ جبکہ صوبائی حکومت سی ٹی ڈی کو جدید اسلحہ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے سی ٹی ڈی کی جدید گاڑیاں وفاق کو واپس کر دیں۔ ایسے حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی بدانتظامی کی وجوہات کیا ہیں؟
ن لیگی رہنما نے الزام عائد کیا کہ ”یہ لوگ دہشت گردوں اور منشیات فروشوں کے سہولت کار ہیں” اور مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور اداروں کو مضبوط کرنے پر توجہ دے۔


