وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ یہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ ؟جبکہ وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے شہدا کو نہتے چھوڑ دیا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس نادرا میں بہترین سسٹم موجود ہے، اس میں جو بھی تصویر ڈالی جائے تو اس میں تمام تر ڈیٹا مل جاتا ہے، دہشت گردوں کی جانب سے جاری تصویر کو ہم نے جب سسٹم میں ڈالا تو یہ افغانستان کے علاقے کا نکلا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان میں موجود دہشت گرد ملوث ہیں، دہشت گردی کے واقعات میں 70فیصد افغانی ملوث پائے گئے ہیں۔
طلال چوہدری نے بتایا کہ ہم نے قیام امن کے لئے ہر طریقہ استعمال کیا جس میں ڈوزئیر اور ٹیبل ٹاک بھی شامل ہے،حملے میں دو ریسکیو اہلکار شہید ہوئے،یہ کون سا جہاد ہے، یہ جہاد نہیں ہے ان کا ہر واقعہ ڈالرز پر بکتا ہے،افغانستان سپر پراکسی کے طور پر کام کررہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شکر ہے ہمارے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو کچھ فرصت ملی ،کوہاٹ واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ کے پی کہیں نظر نہیں آئے ،ڈیرہ اسماعیل خان واقعے کے بعد شکر ہے وزیر اعلیٰ کے پی وہاں گئے،انہوں نے سوال اٹھایا کہ پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ کے پی افغانستان کا نام کیوں نہیں لیتے؟
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے پی کی سیاسی قیادت نے 14سال سے سیکیورٹی فورسز کو قیادت نہیں دی، صوبائی حکومت نے سکیورٹی فورسز کو وسائل فراہم نہیں کئے، اس کی وجہ کیا تھی؟
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں نہ فرانزک لیب ہے نہ سیف سٹی ہے، آپ نے نہ قیادت دی نہ وسائل دئیے ،پنجاب کے اضلاع میں بھی سیف سٹی کا سسٹم ہے جس کی وجہ سے پنجاب میں دہشت گردی نہیں ہوتی۔
آپ نے شہدا کو نہتے چھوڑ دیا، آپ نے فورسز کے اختیارات بھی واپس لے لئے، آپ کہتے ہیں آن بورڈ نہیں لیتے کس طرح آپ کو آن بورڈ لیا جائے،آپ کو جب دعوت دی جاتی ہے وہاں آپ آتے ہی نہیں ہیں۔انسداد دہشت گردی سے متعلق اجلاس میں آپ آتے نہیں ہیں ،این ایف سی کے پیسوں کے لئے اسلام آباد آجاتے ہیں، آپ اجلاسوں میں نہیں آتے دلچسپی نہیں لیتے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی نیت بھی خراب ہے اور طبیعت بھی خراب ہے،یہ لوگ ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہیں ۔
آپ کڈنی ،ہارٹ کے انسٹیٹوٹ بناسکتے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں بنارہے،یہ نا اہل لوگ ہیں ،جب وزیر اعلیٰ کے پی کی تقریب میں افغان مندوبین قومی ترانے کے احترام میں کھڑے نہیں ہوئے یہ لوگ اس وقت خاموش رہے ،ہماری کسی تقریب میں ایسا ہوتا تو ہم ان کا بندوبست اسی وقت کرتے ۔
عطا اللہ تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں آج بھی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چلتی ہیں، آج بھی بغیر رجسٹریشن اور نمبر پلیٹس کی گاڑیاں چلتی ہیں،یہی گاڑیاں دہشت گرد استعمال کرتے ہیں ،یہ اس لئے کرتے ہیں کہ اس سے دہشت گرد پکڑے جائیں گے۔یہ لوگ نہیں چاہتے کہ یہ دہشت گرد پکڑے جائیں، وفاقی حکومت نے بہترین بلٹ پروف گاڑیاں دیں انہوں نے نہیں لی،نہ کسی اور جگہ سے انہوں نے بلٹ پروف گاڑیاں لیں ۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں سب سے زیادہ کے پی کے شہری شہید ہورہے ہیں،افواج پاکستان، سیاسی جماعتیں اور عوام مل کر ان دہشت گردوں کا بندوبست کریں گے،آپ نے پولیس اہلکاروں کو جدید اسلحہ نہیں دیا انہیں بلٹ پروف جیکٹس نہیں دئیے ۔یہ پیسے آپ جلسوں اور دھرنوں میں خرچ کررہے ہیں ،آپ کو اپنی سیاست پیاری ہے ہمیں پاکستان پیارا ہے۔
کوہاٹ میں افغانستان سے ڈرونز آتے ہیں آپ کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔کوہاٹ میں لوگ دہائیاں دے رہے پوچھ رہے ہیں کہاں ہے صوبائی حکومت؟یہ لوگ اپنے مفادات کے لئے دہشت گردوں کی سہولت کاری کررہے ہیں ،میرا مطالبہ ہے کہ این ایف سی سے انسداد دہشت گردی کا جو فنڈ دیا گیا ہے اس کی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ یہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ ہیں، سیاست کے کچھ اصول ہوتے ہیں جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سہیل آفریدی انتظامی سطح پر ناکام تھے اور سیاسی سطح پر بھی ناکام ہوچکے ہیں، اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کے لئے یہ کل علی امین گنڈا پور کے پاس گئے ہیں،صوبے میں تباہی اور بربادی ہوچکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے 125راستے ہیں جو آج کے دن تک بند نہیں ہوئے،کنٹینرز شہر کی حفاظت کے لئے رکھے گئے ہیں، کرائے کے حوالے سے ان کے مالکان سے ہماری بات چیت چل رہی ہے،کسی بھی کنٹینر میں کوئی سامان موجود نہیں ہے۔



