آزاد جموں و کشمیر میں حکومت کی رٹ قائم ہے، نئی منتخب حکومت اور صدرِ ریاست نے حلف اٹھا لیا ہے جبکہ بازار کھلے اور معمولات زندگی بحال ہوچکے ہیں۔
اس بات کا اظہار چیف سیکریٹری آزاد جموں و کشمیر خوشحال خان نے آئی جی پولیس لیاقت ملک کے ہمراہ کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کے خلاف مظفرآباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
یہ کمیٹی 9 جون سے آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل راولاکوٹ میں دھرنے دیے بیٹھی ہے۔ کمیٹی 3 سال سے مختلف مواقع پر اپنے 38 مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاجی مظاہرے کرتی آئی ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے جائز سارے مطالبات پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں۔ کمیٹی کو 5 جون کو کالعدم قرار دے کر اس کے سرکردہ رہنماؤں کی گرفتاری پر انعام کا اعلان کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کے نام فورتھ شیڈول میں بھی شامل کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بھارتی فنڈنگ سے افرا تفری پھیلانے کے ثبوت سامنے آ چکے، عطاء تارڑ
پریس کانفرنس کے دوران چیف سیکرٹری نے آزاد کشمیر میں شہید اور زخمی ہونے والے پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
چیف سیکریٹری کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال 25 ستمبر سے 4 اکتوبر کے دوران ‘مسلح گروہوں اور شرپسند عناصر’ نے عوامی مفادات کی آڑ میں ایسی سرگرمیاں کیں جن سے ریاست میں امن و امان متاثر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع میں ‘مسلح گروہوں’ کی جانب سے ‘حملے’ کیے گئے، بالخصوص ضلع دھیرکوٹ کے علاقے چمیاٹی میں پولیس پر حملے کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید اور تقریباً 409 زخمی ہوئے۔
چیف سیکریٹری کے مطابق حکومت نے امن کو موقع دینے کے لیے معاہدے پر عمل درآمد کی کوشش کی اور عوامی مفاد سے متعلق نکات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا۔ ان واقعات سے متعلق بعض ایف آئی آرز پر مزید تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے پر بھی غور کیا گیا اور عوامی مفاد و امن و امان کے پیش نظر اس وقت ان مقدمات پر کارروائی روک دی گئی۔
مزید پڑھیں: کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے9 جون کے احتجاج کا مقصد آزاد کشمیر میں انتخابات کو روکنا تھا،رانا ثناء اللہ
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں جون میں صورتحال نے دوبارہ شدت اختیار کی، ریاست میں ہڑتال اور پہیہ جام ہوا، تاہم حکومت کے مطابق امن و امان بحال کیا گیا اور ریاستی اداروں نے صورتحال پر قابو پالیا۔
خوشحال خان کا کہنا تھا کہ “الحمدللہ کشمیر کے عوام نے اس کو نہ صرف ناکام کیا بلکہ حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ہم نے ان شرپسند عناصر کو ایک بہت ہی چھوٹی جگہ پہ محدود کر دیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “ابھی الحمدللہ اس وقت نہ صرف حکومت کی رٹ قائم ہے بلکہ۔۔۔ہماری جو مارکیٹیں ہیں ہماری جو پبلک لائف ہے وہ ریسٹور ہوئی الحمدللہ۔”
آئی جی پولیس آزاد کشمیر نے کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء اور ان کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ ان کے مطابق اہلکاروں نے خطے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جانوں کی قربانیاں دیں اور ریاست ان قربانیوں کو نہیں بھولے گی۔
آئی جی نے کہا کہ گزشتہ سال چمیاٹی میں پولیس پر حملے کے دوران کانسٹیبل طاہر رفیق، کانسٹیبل محمد جمیل اور ہیڈ کانسٹیبل محمد رشید گولیاں لگنے سے شہید ہوئے۔ ان کے بقول اس واقعے میں 409 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں بعض کو گولیاں اور بعض کو ڈنڈوں سے نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد پولیس اہلکاروں کی لاشوں کی بے حرمتی اور سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ آئی جی نے کہا کہ ان میں سے بعض مواد احتجاج کرنے والے گروہوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا، وزیراعظم آزاد کشمیر
آئی جی پولیس نے کہا کہ گزشتہ برس درج کی گئی 69 ایف آئی آرز پر بھی ایک مرحلے پر کارروائی روک دی گئی تھی تاکہ امن کو موقع دیا جاسکے، تاہم ان کے بقول بعد میں دوبارہ تشدد کے واقعات پیش آئے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور ‘کم سے کم طاقت’ کے استعمال کی پالیسی کے تحت کارروائی کی۔ ان کے مطابق پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
آئی جی کے مطابق 2025 میں چمیاٹی میں پولیس اہلکاروں کو شہید و زخمی کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمات میں اب تک 122 افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست صبر و تحمل کا مظاہرہ ضرور کرتی ہے لیکن قانون کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہیں کرتی۔ ان کے بقول اہلکاروں کو قتل اور زخمی کرنے میں ملوث افراد کی شناخت کی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
آئی جی نے کہا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آزاد کشمیر میں امن و امان برقرار رکھیں اور عوام کی جان، مال اور عزت کا تحفظ یقینی بنائیں۔
انہوں نے چمیاٹی، راولاکوٹ اور دیگر علاقوں میں جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست امن کے لیے جان دینے والوں کی قربانیوں کو نہیں بھولے گی۔
