وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء للہ نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا 9 جون کو احتجاج کا مقصد وہاں ہونے والے انتخابات کو روکنا تھا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن وہ چند حقائق سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 38 مطالبات پیش کیے تھے، جس کے بعد وزیراعظم نے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔
قومی اسمبلی میں وزیراعظم اور فضل الرحمٰن کے درمیان دلچسپ مکالمہ
رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد نے مظفر آباد جا کر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیے ، بجلی کے نرخوں سے متعلق مطالبہ وزیراعظم نے فوری طور پر منظور کر لیا اور گندم پر بھی 2 ہزار روپے سبسڈی بھی دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں مختلف مشینوں کی فراہمی سے متعلق مطالبات بھی منظور کیے گئے، لیکن مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ سامنے آیا، تاہم یہ فیصلہ صرف آزاد کشمیر اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، لیکن جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس کا بائیکاٹ کر دیا۔ 9 جون کے احتجاج کے اعلان کا مقصد آزاد کشمیر کے انتخابات کو روکنا تھا۔
دہشتگردی کا منبع افغانستان ، امریکا سمیت سب ہمیں استعمال کرکے چلے گئے ، خواجہ آصف
رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی نے ایک سال قبل آزاد کشمیر میں جلاؤ گھیراؤ کیا تھا، تاہم حکومت نے اس معاملے کو دھرنے یا جلسے کا نہیں بلکہ آئین اور قانون کا مسئلہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بجلی کا نظام درست کرنے کے لیے 10 ارب روپے درکار تھے، جس کی وزیراعظم شہباز شریف نے منظوری دی۔ مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا اختیار ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کی کانفرنس بلانے کی تجویز بھی دی گئی تاہم اس تجویز کو بھی قبول نہیں کیا گیا۔
