پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد لانگ مارچ کیلئے ٹیکسلا میں تعینات پولیس اہلکاروں کو پانی فراہم کرنے کیلئے راولپنڈی کے تمام دستیاب واٹر ٹینکرز منتقل کردیئے گئے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے اپنا لانگ مارچ 27 ستمبر سے مؤخر کرکے 4 اکتوبر تک ملتوی کردیا ہے تاہم حکومت کی جانب سے ٹیکسلا میں تعینات واٹر ٹینکرز اور عملے کو تاحال راولپنڈی واپس نہیں بلایا گیا۔
موجودہ صورتحال کے باعث گنجان آباد شہر کے ان علاقوں کو مشکلات کا سامنا ہے جہاں پانی کی فراہمی کیلئے واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی، واسا کے ٹینکرز استعمال کیے جاتے ہیں۔
ایک سرکاری افسر کے مطابق پی ٹی آئی لانگ مارچ سے نمٹنے کیلئے 43 ہزار 200 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 30 ہزار 700 پولیس اہلکار اٹک، 10 ہزار 600 راولپنڈی ضلع جبکہ ایک ہزار 976 اہلکار جہلم، مری اور چکوال میں تعینات کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق راولپنڈی شہر اور کینٹ میں پولیس اہلکاروں کے قیام کیلئے 35 اسکول خالی کرائے گئے ہیں۔ اسی طرح ٹیکسلا اور اس کے اطراف میں 5 سرکاری اسکول، ایک نجی اسکول اور ایک کالج بھی پولیس اہلکاروں کے قیام کیلئے خالی کرائے گئے ہیں۔
پولیس اہلکاروں کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے ان علاقوں میں واٹر ٹینکرز بھی بھیجے کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل ضلعی انتظامیہ نے واسا کو ہدایت کی تھی کہ پولیس اہلکاروں کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے تمام 22 واٹر ٹینکرز عملے سمیت ٹیکسلا بھیجے جائیں۔
ایم ڈی واسا نے کیا کہا؟
واسا کے منیجنگ ڈائریکٹر عزیز اللہ خان نے تصدیق کی ہے کہ شہری ادارے کی جانب سے پولیس اہلکاروں کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے ٹیکسلا اور ملحقہ علاقوں میں واٹر ٹینکرز بھیجے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کی وہاں موجودگی تک واٹر ٹینکرز ٹیکسلا میں ہی رہیں گے۔
عزیز اللہ خان کے مطابق شہر کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے سپلائی سسٹم کے ذریعے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں ٹینکرز کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا تھا تاہم وہاں پانی کی قلت سے بچنے کیلئے پانی کی سپلائی کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے۔
مقامی شہریوں کا اظہار ناراضی
راولپنڈی کے شہریوں نے واٹر ٹینکر سروس معطل ہونے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ واسا کے ٹینکرز نسبتاً کم نرخوں پر پانی فراہم کرتے تھے تاہم سروس معطل ہونے کے بعد نجی واٹر ٹینکرز نے اپنے نرخ بڑھا دیے ہیں۔
شاہ خالد کالونی کے رہائشی محمد انور نے بتایا کہ نجی واٹر ٹینکرز کی قیمت 4 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 ہزار روپے کردی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ واسا کے ٹینکرز نجی ٹینکرز کے مقابلے میں کم نرخوں پر پانی فراہم کرتے تھے اور سروس معطل ہونے سے پرانے ایئرپورٹ روڈ کے اطراف کی رہائشی کالونیوں سمیت متعدد علاقوں میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔
محمد انور کے مطابق واسا شہر میں پانی کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے میں ناکام رہا ہے،شہریوں کو پہلے ہی پانی کی قلت کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپلائی لائن کے ذریعے فراہم کیا جانے والا پانی کافی نہیں کیونکہ بہت سے لوگوں نے پانی کھینچنے والی مشینیں نصب کر رکھی ہیں جبکہ شہری ادارہ ان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اسی طرح سیٹلائٹ ٹاؤن کے رہائشی ملک رضا نے بتایا کہ انہیں پانی کے ٹینکر کی ضرورت تھی تاہم واسا حکام نے آگاہ کیا ہے کہ 6 اکتوبر تک واٹر ٹینکر دستیاب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس اہلکاروں کیلئے شہر کے واٹر ٹینکرز منتقل کرنے کے بجائے حکومت نجی واٹر ٹینکرز کا انتظام کرے تاکہ شہری علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔


