وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ن ے بھاگنا ہی تھا تو احتجاج کی کال کیوں دی۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب، فلسطین و کشمیر سمیت ملکی اور سیاسی امور پر گفتگو کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں پوری امت مسلمہ کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا، وزیراعظم کی تقریر کو پوری دنیا میں سراہا گیا جبکہ فلسطینی نمائندوں نے بھی وزیراعظم کے خطاب کو دل کھول کر داد دی۔
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے لیے پاکستان اور حکومت کے جذبات عملی طور پر سب کے سامنے ہیں۔ فلسطینی عوام کے لیے امدادی سامان بھی بھجوایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے فلسطین کے طلبہ کی میڈیکل تعلیم کے لیے بھی کردار ادا کیا، جبکہ فلسطین کے طلبہ پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا اور اسرائیل کی مذمت کی۔ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور فلسطینیوں کے حق میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق امریکی صدر نے بھی وزیراعظم کی تقریر کا کلپ سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا، وزیر اطلاعات
کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان کشمیر کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا، عطا تارڑ
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر بھی بھارت کو خبردار کیا ہے۔عطا تارڑ کے مطابق وزیراعظم نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے مفادات اور حقوق کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف رکھتا ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم نے عالمی فورم پر بھی اپنا مؤقف پیش کیا۔
سعودی عرب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں
سعودی عرب کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور مشکل وقت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کو جواب دیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔
جلد تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی، وزیر اطلاعات
عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے عطا تارڑ نے کہا کہ جلد تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی اور دنیا کی معیشتیں ترقی کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی حالات میں بہتری کے اثرات آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔
27 ستمبر کے مارچ پر پی ٹی آئی کو تنقید
پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کی کوئی مؤثر تیاری نہیں تھی۔
عطا تارڑ نے کہا کہ 27 ستمبر کے مارچ کی تاریخ پی ٹی آئی نے خود دی تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی اتنی کمزور کبھی نہیں ہوئی جتنی اب ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پہلے کہا جاتا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی نہیں کہیں گے، مارچ ملتوی نہیں ہوگا۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے سوال اٹھایا کہ اگر پی ٹی آئی نے بھاگنا ہی تھا تو احتجاج کی کال کیوں دی؟
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج اور مارچ کی تاریخ دی گئی، تاہم بعد میں اس حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 27ستمبرکالانگ مارچ ’’کھودا پہاڑ نکلاچوہا‘‘ثابت ہوا، عطاتارڑ نے ایک بار پھر کہا کہ پی ٹی آئی کا دہشتگردوں سے گٹھ جوڑ ہے، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے دہشتگردوں کی مذمت تک نہیں کرتے۔
سہیل آفریدی پارٹی میں اپنی ساکھ کھو چکے ہیں، عطا تارڑ
سہیل آفریدی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ وہ پارٹی میں اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ اب پی ٹی آئی کوئی بھی تاریخ دے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پہلے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اجازت کے بغیر مارچ ملتوی نہیں کیا جائے گا، تاہم بعد میں صورتحال مختلف نظر آئی۔
دہشت گردوں کے خلاف مکمل کارروائی کا عزم
وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ دہشت گردوں کی مذمت کرنے سے بھی گریزاں ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہی ہیں۔ حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ڈنکے کی چوٹ پر کہتی ہے کہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کریں گے۔
تحریک انصاف اپنی جماعت اور کارکنوں سے جھوٹ بولتی ہے، اختیار ولی خان
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف والے اپنی جماعت اور کارکنوں سے جھوٹ بولتے ہیں، 27 ستمبر کے مارچ کے لیے کوئی تیاری نہیں کی گئی تھی، اگر پی ٹی آئی نے بھاگنا ہی تھا تو احتجاج کی کال کیوں دی؟
اختیار ولی خان نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی، 27 ستمبر کے احتجاج، خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور پولیس سے متعلق امور پر بات کی۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کے مارچ کے لیے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ لانگ مارچ کے حوالے سے بہت شور مچایا گیا لیکن عملی طور پر کچھ نہیں نکلا۔
انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف نے احتجاج سے پیچھے ہٹنا ہی تھا تو احتجاج کی کال کیوں دی گئی؟ پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے گئے، تاہم بعد میں صورتحال مختلف نظر آئی۔
تحریک انصاف والے اپنی جماعت اور کارکنوں سے جھوٹ بولتے ہیں
اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے رہنما اپنی ہی جماعت اور کارکنوں سے جھوٹ بولتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں کے سامنے احتجاج اور لانگ مارچ کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن عملی اقدامات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ تحریک انصاف والے شہدا کے جنازوں میں شرکت تک نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پولیس اور سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہی ہیں اور شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہونا سب کی ذمہ داری ہے۔
اختیار ولی خان نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کے قیام کے لیے 800 ارب روپے دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال ایک اہم مسئلہ ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور سکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہی ہیں۔
اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا پولیس کو آئی ایس ایف فورس میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی اور پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔
کوہاٹ واقعے نے پوری قوم کو متحد کردیا، اختیار ولی
اختیار ولی خان نے کہا کہ کوہاٹ کے واقعے نے پوری قوم کو یکجا کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے اور سیاسی جماعتوں کو بھی اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
اختیار ولی خان نے تحریک انصاف سے سوال کیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا دہشت گردی کے ساتھ۔۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہی ہیں، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کو دہشت گردی کی مذمت اور اس کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
خیبرپختونخوا پولیس سے متعلق دعویٰ
اختیار ولی خان نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں پولیس ایک ماہ سے ہڑتال پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پولیس کا کردار انتہائی اہم ہے اور پولیس فورس کو سیاسی مقاصد کے بجائے امن و امان کے قیام اور عوام کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔
خیبرپختونخوا حکومت کی 25 ستمبر کی سرکاری بریفنگ میں پولیس کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں اور امن و امان پر توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایات کا ذکر کیا گیا ہے۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے بہت شور تھا، لیکن کچھ نہیں نکلا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے 27 ستمبر کے احتجاج کی کال دی، لیکن بعد میں اسے مؤخر کردیا گیا۔
اس سے قبل خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے احتجاج کو آئینی اور قانونی حق قرار دیتے ہوئے مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا، تاہم 25 ستمبر کو پی ٹی آئی نے مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔



