لاہور پولیس نے ایک خاتون سمیت 5 افراد پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا ہے جس میں ان پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے احتجاج کے دوران “قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف لڑنے”، اور “حالات کشیدہ کر کے عوام کو ریاست کے خلاف بھڑکانے” کے لیے :گوریلا ٹائپ جتھہ” تیار کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات کے حق میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دی تھی جسے 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ وفاق اور پنجاب حکومت نے مارچ روکنے اور مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کر رکھے ہیں جبکہ ان کا مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی کا ماضی ‘پرتشدد’ مظاہروں سے پُر ہے اور وہ ایک بار پھر ‘اسلام آباد پر حملہ آور‘ ہونے کے لیے آ رہے ہیں، جبکہ پارٹی قیادت پرامن ہونے کی دعویدار ہے۔ احتجاج سے قبل پارٹی کے بانی عمران خان کی 3 بہنوں سمیت متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
لاہور کے تھانہ ڈیفنس اے میں درج ایف آئی آر کے مطابق 8 پولیس اہلکار بشمول ایک لیڈی کانسٹیبل کے گولڈ کرسٹ مارکیٹ میں گشت کر رہے تھے کہ “مخبر نے اطلاع دی کہ امین نامی شخص نے 27 ستمبر کو PTI کے احتجاج کو پر تشد د بنانے کے لیے کہ غنڈہ گرد لڑ کے ڈھونڈ رہا ہے۔”
مقدمے کے متن کے مطابق ان لڑکوں کو “بعد ازاں ڈیوٹی پر مامور پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف لڑنے کی ٹریننگ دی جائے گی تا کہ حالات کشیدہ کر کے عوام کو ریاست کے خلاف بھڑ کا یا جا سکے۔”
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ملزمان گروہ کو اس لیے تربیت دینا چاہ رہے تھے تاکہ “بین الاقوامی سطح پر مملکت پاکستان اور قومی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بد نام کیا جا سکے۔”
پولیس پارٹی کے مطابق مخبر نے ملزم کے بارے میں معلومات دیں کہ “اس وقت وہ قبرستان سے چرڈ پنڈ کی طرف ساتھیوں کے ہمراہ پیدل جا رہا ہے اگر فوری ریڈ کیا جائے تو پکڑا جاسکتا ہے۔”
ایف آئی آر میں ریڈ کی تفصیل بتاتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ پولیس نے ریڈنگ پارٹی تشکیل دیکر ریڈ کیا اور مخبر کی نشاندہی کے مطابق 4 افراد کو “گھیرا ڈالا جنہوں نے پولیس پارٹی سے مزاحمت شروع کر دی اور گلو گیر ہو گئے۔”
پولیس کے مطابق ان میں سے ایک شخص کو قابو کر لیا گیا جبکہ باقی 3 افراد “قبرستان کی طرف فرار ہو گئے جن کو سامنے آنے پر شناخت کیا جا سکتا ہے۔”
پولیس کے مطابق اس شخص کے موبائل فون سے ایک کال ریکارڈنگ برآمد ہوئی جس میں ایک خاتون اس کو “27 ستمبر PTI کے احتجاج کے لیے 20/30 کسی غنڈہ گرد نوجوان بھرتی کرنے اور بعد ازاں ان کی ٹریننگ کروا کر پولیس کے خلاف استعمال کرنے کی ہدایت کر رہی ہے۔”
پولیس کے مطابق اس ریکارڈنگ کے بارے گرفتار شخص کا کہنا ہے کہ یہ خاتون اس کے مالک کی بہن ہے “جس نے ہمیں گوریلا ٹائپ جتھہ ٹرینڈ کر کے PTI ہم خیال نوجوانوں کو ترغیب دیکر پولیس کے خلاف لڑنے کے لئے تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔”
پولیس کے مطابق ملزم کا کہنا تھا کہ موقع سے فرار ہو جانے والے افراد کو بھی اس نے اسی مقصد کے لیے اکٹھا کیا تھا۔
پولیس نے مقدمہ میں ایک خاتون سمیت 2 افراد کو نامزد کیا ہے جبکہ 3 نامعلوم افراد بھی شامل کیے گئے ہیں جنہوں نے ایف آئی آر کے مطابق “اپنے آقاؤں کے حکم پر پاکستان کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنے کے لیے مسلح جتھہ کی ٹریننگ اور PTL کے احتجاج میں استعمال کرنے کی سازشِ مجرمانہ اور بغاوت کرنے کے لیے استعمال کر کے ارتکاب جرم 186/353 / 1208 / 124 / 505 ت پ کا کیا ہے۔”



