پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج یا کل اسلام آباد کے لیے اعلان کردہ لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کردے گی۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی کوئی تیاری نہیں اور پارٹی اسلام آباد پر چڑھائی کی بات کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے آدھے سے زیادہ رہنما چھپ چکے ہیں، خود ساختہ روپوشی اختیار کرلی ہے، اور کئی دائیں بائیں سے فون کروارہے ہیں کہ ہمیں گرفتار کروالو۔
انہوں نے کہا کہ اگر لانگ مارچ کیا جائے گا تو خیبرپختونخوا کو کون سنبھالے گا؟
فیصل کریم کنڈی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی اپنے بانی عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کے حق میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے جارہی ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور اسے پرامن رکھا جائے گا۔
انکا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چالیس پچاس لاکھ بندہ اکٹھا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے تو لوگوں کو تو اپنے حلقوں میں موبلائزیشن کے لیے ہونا چاہیے تھا، وہ تو اسلام آباد کے کیفیز میں بیٹھ کر گپیں مار رہے ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق سوال پر کہا کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے لیے کوئی مشاورت نہیں ہوئی ہے۔
گورنر راج کے معاملے پر بھی اس سے قبل وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت آمنے سامنے آچکی ہیں۔ دو وز قبل ہی وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے دنیا نیوز ٹی وی کے پروگرام آن دی فرنٹ میں کامران شاہد سے گفتگو کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا امکان ظاہر کیا تھا۔
‘ کے پی حکومت پولیس کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتی ہے’
فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ پر بھی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت پولیس کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتی ہے۔ گورنر نے مجوزہ قانون کو مسترد کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ قانون ان کے پاس منظوری کے لیے آیا تو وہ اسے موجودہ شکل میں منظور نہیں کریں گے۔
مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 صوبائی کابینہ کی جانب سے منظور کیا جاچکا ہے اور اسے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جانا ہے۔ وفاقی حکومت نے بھی اس مسودے پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر کو متاثر کرسکتی ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ میرے خیال میں خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ نے پولیس ایکٹ پڑھا ہی نہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبائی کابینہ دیگر اداروں کی طرح پولیس کو بھی تباہ کر رہی ہے۔ پولیس اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہیں سب سے کم کیوں ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ ڈی ایس پی کی بھرتی کے لیے 25 فیصد کوٹے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ اپنی مرضی سے ڈی ایس پی بھرتی کرنا چاہتے ہیں، کیا ایسا کبھی کسی صوبے میں ہوا ہے؟
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر پولیس حکومت کے تابع ہوگی تو جو بھی رپورٹ پیش کی جائے گی، اسے تبدیل کرکے عدالت میں پیش کیا جاسکے گا۔
گورنر نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ نے بھی پولیس کو ٹائگر فورس بنانے کی کوشش کی تھی، جسے پشاور ہائی کورٹ نے روک دیا تھا۔
مجوزہ پولیس ایکٹ کا پس منظر
خیبرپختونخوا کابینہ نے 23 ستمبر کو وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیرصدارت اجلاس میں خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کے نظرثانی شدہ مسودے کی منظوری دی تھی۔ مسودہ موجودہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 کی جگہ لانے کی تجویز دیتا ہے اور اسے اب صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
مجوزہ قانون میں پولیس کے انتظامی، مالی اور آپریشنل معاملات میں صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کے کردار کو بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔ مسودے کے مطابق پولیس چیف کے اختیارات حکومتی پالیسی اور وزیراعلیٰ یا صوبائی حکومت کی ہدایات سے مشروط ہوں گے۔ پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی بھی انسپکٹر جنرل کے بجائے وزیراعلیٰ کو دینے کی تجویز ہے۔
مجوزہ قانون میں ریجنل پولیس افسران اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی تقرری اور تبادلوں میں بھی وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کا کردار بڑھانے کی تجویز ہے، جبکہ گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے افسران کی بعض تعیناتیوں اور تبادلوں کو بھی حکومتی منظوری سے مشروط کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔



