امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران سے معاہدہ ہونے کی امید ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ صدارت سنبھالتے ہی ایران سے مذاکرات شروع کیے گئے اور تہران کو جوہری پروگرام ترک کرنے کی پیشکش کی گئی، تاہم ایرانی حکومت نے انکار کردیا۔
امریکی صدر کے مطابق امریکا نے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا اور ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران سے کئی مرتبہ مذاکرات کیے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ تہران سے ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو مشرق وسطیٰ کا بہترین معاہدہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے سامنے معاہدے کا راستہ موجود ہے، بصورت دیگر امریکا اس کی صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے آپشن کا جائزہ لے رہا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں شدید متاثر ہوچکی ہیں، ایرانی نیوی اور ایئرفورس تباہ ہوچکی ہیں جبکہ ایران کی معیشت بھی انتہائی کمزور ہوچکی ہے۔ ان کے بقول ایران میں مہنگائی کی شرح 300 فیصد ہے۔
ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران بیلسٹک میزائل تیار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور تجارتی بحری جہازوں کو دھمکانے اور ان پر حملے کرنے میں ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے اور ان کے سامنے تہران کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ ہے، معاہدہ یا مکمل تباہی۔
ایران سے معاہدے کی امید
ٹرمپ نے کہا کہ ایران انتظار کررہا ہے کہ امریکی مڈٹرم انتخابات میں ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، تاہم وہ کہیں نہیں جارہے اور مزید ڈھائی سال امریکا کی صدارت کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران سے معاہدہ ہوجائے گا۔
ٹرمپ نے تمام ممالک سے ایران کے معاشی بائیکاٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے دنیا کو متحد ہونا ہوگا۔
آبنائے ہرمز
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس راستے سے مزید تیل گزر رہا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روزانہ 22، 25، 30، 32 اور 37 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری افواج نے ایک ارب بیرل سے زائد تیل لے جانے والے جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کی ہے۔
ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران نے تجارتی جہازوں پر حملے کرکے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے معاملے پر ایک اہم فیصلے کے مرحلے میں ہے، تاہم انہوں نے اس فیصلے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ٹرمپ کا پاک بھارت جنگ کا ذکر اور وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف
امریکی صدر نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران پاک بھارت جنگ کا بھی خصوصی ذکر کیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوائی۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکی صدر نے لاکھوں جانیں بچائیں۔
ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کو بہترین انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے ان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے اچھا کام کیا۔
امریکی صدر نے مجموعی طور پر 8 جنگیں رکوائے جانے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے علاوہ کانگو اور روانڈہ میں جنگ بندی اور غزہ میں جنگ بندی کا بھی ذکر کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایک سال پہلے غزہ بحران کے حل کی کوئی امید نہیں تھی، تاہم ان کی انتظامیہ جنگ ختم کرنے اور ہزاروں جانیں بچانے میں کامیاب رہی۔
روس یوکرین جنگ
روس یوکرین جنگ کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا دونوں ممالک کے درمیان جنگ جلد از جلد ختم کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین جنگ کی خونریزی روکنے کا وقت آگیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جلد جنگ بندی معاہدہ طے پانے کی امید ہے۔
گرین لینڈ اور امریکی فوجی اڈے
گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایک معاہدے پر دستخط کرے گا، جس سے ان کے بقول نیٹو، امریکا اور یورپ کی سیکیورٹی مضبوط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا گرین لینڈ میں دو امریکی بیسز قائم کرے گا۔
مصنوعی ذہانت پر ٹرمپ کا مؤقف
مصنوعی ذہانت کے بارے میں امریکی صدر نے کہا کہ اے آئی اب “سپر انٹیلی جنس” کی جانب بڑھ رہی ہے۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا سپر انٹیلی جنس کی تیاری اور ترقی کا کام نہیں روکے گا۔ انہوں نے سپر انٹیلی جنس کو خطرناک قرار دینے والے خدشات کو ڈھونگ اور فراڈ قرار دیا۔
آئی سی سی اور اقوام متحدہ پر تنقید
ٹرمپ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی شدید مخالفت کرتے ہوئے تمام ممالک سے اس سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے متعدد اداروں کو بائیں بازو کے نظریات کا حامی قرار دیا۔
امریکی صدر نے مغربی نصف کرہ میں منشیات کے کارٹیلز کو داعش سے تشبیہ دی جبکہ کیوبا کو ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بکھر جائے گا۔ ٹرمپ کی تقریر کے دوران کیوبا کے وفد نے احتجاجاً جنرل اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کیا۔
امریکا کی داخلی صورتحال
ٹرمپ نے امریکی معیشت اور داخلی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پہلے سے زیادہ مضبوط ملک بن چکا ہے، امریکی معیشت مضبوط ہے اور اسٹاک مارکیٹ نے تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے۔
ان کے مطابق امریکا میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے، نجی شعبے میں بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں اور امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی سرحدیں محفوظ بنائی گئی ہیں اور غیرقانونی تارکین وطن کی آمد روک دی گئی ہے۔ انہوں نے امریکا میں جرائم کی شرح میں 87 فیصد کمی کا بھی دعویٰ کیا۔



