ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حاکم خان بکھر نے کیس کی سماعت کی تاہم علی امین گنڈاپور اور شریک ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
ملزمان کی عدم دستیابی کے باعث استغاثہ کے گواہان کے بیانات ریکارڈ نہ کیے جاسکے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 17 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
آڈیو لیک کیس کا پس منظر
علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کا مقدمہ تھانہ گولڑہ اسلام آباد میں درج ہے، کیس کا تعلق 2022 کے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران سامنے آنے والی ایک مبینہ آڈیو سے ہے، جس میں ایک شخص سے گفتگو کے دوران اسلحہ، لائسنس، افراد اور اسلام آباد کے قریب کیمپ لگانے سے متعلق بات چیت سامنے آئی تھی۔
مقدمے میں مبینہ آڈیو کے حوالے سے علی امین گنڈاپور پر وفاقی حکومت کے خلاف اشتعال انگیزی، دھمکیوں اور عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے سے متعلق الزامات بھی عائد کیے گئے تھے، یہ الزامات عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں اور ان کا حتمی تعین عدالت میں شواہد اور کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
کیس میں گزشتہ برسوں کے دوران گنڈاپور کی عدم پیشی پر عدالت کی جانب سے متعدد مرتبہ وارنٹ گرفتاری جاری یا برقرار رکھے گئے، فروری 2026 میں وہ عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے وارنٹ معطل کرتے ہوئے ان پر اور شریک ملزم اسد فاروق خان پر فردِ جرم عائد کی تھی۔



