حکومت نے مسلسل پانچویں روز پیٹرولیم مصوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا، پیٹرول 6 روپے 59 پیسے جبکہ ڈیزل 4 روپے 25 پیسے فی لیٹر سستا کردیا گیا۔
اوگرا کی جانب سے 6 نومبر 2026 کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 7 نومبر سے ہوگا۔
پیٹرول کی قیمت 352 روپے 59 پیسے سے کم کرکے 346 روپے فی لیٹر مقرر کردی گئی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 382 روپے 25 پیسے سے کم کرکے 378 روپے فی لیٹر کردی گئی۔
اوگرا کے مطابق نئی قیمتیں 10 نومبر 2026 تک برقرار رہیں گی، 9 نومبر کو عام تعطیل کے باعث قیمتوں کے اطلاق کی مدت میں یہ تبدیلی کی گئی ہے۔
حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
واضح رہے کہ ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد اب کم ہو چکی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان 28 فروری کو جنگ شروع ہوئی تو ڈیزل 281 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا، جس کے بعد اس کی قیمت میں اضافہ شروع ہوا۔
پیٹرول کی قیمت بھی مارچ کے پہلے ہفتے میں 266 روپے فی لیٹر سے بڑھنا شروع ہوئی اور 3 اپریل کو 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
13 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے بھی ریلیف اسکیم کا اعلان کیا تھا، تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
اس سے قبل 17 جولائی کو وزیر پیٹرولیم نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان خلیج فارس میں دوبارہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر اب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ مقرر کی جائیں گی۔
رواں سال ہی مارچ کے آغاز سے حکومت ہر ہفتے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کر رہی تھی۔ اس دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر ایندھن کی بچت کے اقدامات بھی کیے گئے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کی امیدوں کے باعث قیمتوں پر دباؤ آیا، تاہم خلیج میں تیل بردار جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال نے قیمتوں میں دوبارہ اضافہ کردیا۔
رائٹرز کے مطابق 6 نومبر کو عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 98 ڈالر 60 سینٹ فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تقریباً 91 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔
برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ہفتے کے دوران تقریباً 17 فیصد تک گر گئی ہے جو 2020 کے بعد ہفتہ وار سب سے بڑی کمی ہوسکتی ہے۔امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی ہفتہ وار تقریباً 13 فیصد کمی کا امکان ظاہر کیا گیا۔
پاکستان اپنی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، درآمدی اخراجات اور پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں تبدیلی کا براہ راست اثر مقامی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
حالیہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور حکومتی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے تناظر میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔


