پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہم عوامی و جمہوری لوگ ہیں، اسلام آباد لانگ مارچ ہر صورت ہوگا، 25 ستمبر کو تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور ہم نے تمام آئینی، قانونی و جمہوری راستے اپنائے ہیں۔ لیکن یہاں پر سپریم کورٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد کوئی بڑا احتجاج نہیں کیا لیکن ہماری بات نہیں سنی جا رہی۔ آخری راستہ احتجاج کا ہوتا ہے اور ہم نے پرامن طریقے سے احتجاج کیا۔ چور دروازے سے آنے والے نہ جمہوریت کو مانتے ہیں اور نہ کسی انسان کی قدر کرتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ میرا آئین میرا قانون مجھے پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے لیکن اگر یہ پرامن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتے تو پھر یہ آئین سے اس کی شق ہی نکال دیں۔
انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو ہم نے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اور ہم اس کے لیے پرامن طور پر ضرور نکلیں گے۔ یہ عمران خان کی بہنوں، رہنماؤں اور اراکین اسمبلی کو گرفتار کر کے تحریک کو ناکام کرنے کی کوشش کریں گے تو ایسا نہیں ہوں گے اور اس دفعہ لوگ بڑی تعداد میں نکلیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ چار سال میں ہمیں خوفزدہ نہیں کر پائے تو اب کیا کریں گے۔ لانگ مارچ ہر حال میں ہو گا۔
صحافیوں کے پوچھے گئے سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ 25 ستمبر کو لانگ مارچ سے متعلق تمام ترتفصیلات جاری کر دی جائیں گی۔ ہم پرامن طور پر اسلام آباد رخ کریں گے اور ہمارے ہاتھوں میں کوئی چیز نہیں ہو گی۔ ہم مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔
ہمیں اکسایا جا رہا ہے لیکن ہم دہشتگردوں کی طرح اسلام آباد نہیں آئیں گے، بیرسٹر گوہر
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم پر امن تھے، پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے لیکن ہمیں پرامن رہنے کی ہی سزا دی جا رہی ہے۔ ہم جہاں جاتے ہیں وہاں سنوائی نہیں ہوتی ہم نے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے اور پارلیمنٹ میں بھی آواز اٹھائی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے وزرا، اراکین پارلیمنٹ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ ہم اسلام آباد کو سومنات بنانے یا تباہ کرنے نہیں جا رہے۔ ہم قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے اور ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ ہم آگے بڑھیں گے تو یہ ہم سے دہشتگردوں کی طرح نمٹیں گے۔ کیا ہم دہشتگرد ہیں ؟ یہ ہمیں اکسا رہے ہیں لیکن ہم دہشتگردوں کی طرح نہیں آئیں گے۔ ہم خان کی سپاہی اور سیاسی لوگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے تعلقات ختم نہیں کیے اور رابطے آج بھی برقرار ہیں۔ ہم نے عمران خان کا علاج، ملاقاتیں اور انصاف کا ہی مطالبہ کیا ہے لیکن ہمارے اراکین کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ طاقت میں موجود لوگوں کو عوام کے جذبات اور احساسات کی قدر کرنی ہو گی۔ جبکہ انصاف کے بغیر کوئی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم پاکستان کی عوام کو کہنا چاہتے ہیں کہ تسلی رکھیں کوئی گولی نہیں چلے گی، ہم پرامن طور پر اپنے حقوق کے لیے نکلیں گے۔ ہم نے ہمیشہ ریاست کا ساتھ دیا ہے اور ریاست کو کہا ہے کہ ہمارے ساتھ سوتیلوں والا سلوک نہیں کیا جائے۔
صحافیوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ لوگ لانگ مارچ سے نہیں بلکہ لانگ مارچ کو جس طرح سے روکا جا رہا ہے اس سے پریشان ہیں۔ ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے مطابق کوئی سرکاری وسائل کا استعمال نہیں کریں گے۔


