27 ستمبر کے لانگ مارچ کی حکمت عملی کیا ہو گی؟ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت اس حوالے سے تاحال تذبذب کا شکار ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں لانگ مارچ کے لیے باقاعدہ لائحہ عمل طے نہ ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق مرکزی قیادت نے پارلیمنٹیرینز کو اپنے اپنے حلقوں سے کم از کم ایک، ایک ہزار کارکن لانے کا ٹاسک دیا ہے۔ لانگ مارچ والے دن ایم این ایز، سینیٹرز اور ایم پی ایز کو کارکنوں کے ساتھ رہتے ہوئے سب سے آگے رہنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلعی عہدیداروں اور کارکنوں کو تاحال لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی واضح شیڈول فراہم نہیں کیا گیا۔ پارٹی میں اس بات پر بھی غور جاری ہے کہ قافلے ایک ہی روز اسلام آباد پہنچنے کے بجائے مرحلہ وار آگے بڑھیں گے۔
رکاوٹوں کی صورت میں صوابی میں پڑاؤ ڈالنے کا پلان بھی زیر غور
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کی صورت میں صوابی میں پڑاؤ ڈالنے کا پلان بھی زیر غور ہے، جس کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ لانگ مارچ کے روٹ، قافلوں کی روانگی، قیام اور دیگر انتظامات سے متعلق باضابطہ لائحہ عمل 25 ستمبر تک طے کر لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے ، اس کے علاوہ جماعت اسلامی اور کسان اتحاد نے بھی اسلام آباد میں مختلف تاریخوں پر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ حکومت کی جانب سے عدالتی احکامات کی روشنی میں ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ
سیاسی جماعتوں کے احتجاج اور لانگ مارچ کے پیش نظر مختلف صوبوں سے سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے آنے والے پولیس اہلکاروں کی رہائش کے لیے اسلام آباد کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے آج منگل سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر جی-6/1، جی-6/2، ایف-6/4، ایف-7/2، جی-7/3، جی-8/1، جی-9/2، جی-9/3، جی-10/4، جی-13/2، آئی-9/4 اور آئی-10/2 سمیت مختلف سیکٹرز میں واقع اسکولز اور کالجز بند رہیں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بری امام، ملپور، ترنول، سہالہ، پہاگ پنوال، ایچ-9 سیکٹر اور راول ڈیم کے علاقے سمیت دیہی اور مضافاتی علاقوں کے تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔



