لانگ مارچ سے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کی نظر بندی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے گھروں پر مبینہ چھاپوں اور انہیں ہراساں کیے جانے کے خلاف لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست کو قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کرتے ہوئے کارروائی 25 ستمبر تک ملتوی کر دی، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤں پر چھاپوں کے خلاف دائر درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی (آپریشنز) کو 24 ستمبر کو عدالت طلب کرلیا۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے جس کے پیش نظر پارٹی پر کریک ڈاؤن کے دوران پنجاب پولیس نے عمران خان کی تینوں بہنوں علمیہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو حراست میں لیا تھا۔
علیمہ خان کو اتوار کی دوپہر جبکہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو گزشتہ روز حراست میں لیا گیا تھا۔ ان گرفتاریوں پر ردعمل دیتے ہوئے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے گزشتہ روز ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ “ایم این ایز، ایم پی ایز اور خاندانوں کی گرفتاریاں حالات کشیدہ کریں گی، ریاست طرزِ عمل تبدیل کرے۔”
ہمارے لوگ اور پارلیمنٹیرین گرفتار ہو رہے ہیں- جن کے ہاتھ میں اختیار اور طاقت ہے، وہ ایک مرتبہ حالات پر نظر کریں-اس وقت ایم این ایز، ایم پی ایز اور خاندانوں کی گرفتاریوں سے حالات کشیدہ ہوں گے۔عظمیٰ بی بی اور نورین بی بی کی حراست کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے- ملک کو اس وقت مزید… pic.twitter.com/HnbRBoMQCB
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) September 21, 2026
علیمہ خان کی نظربندی کے خلاف درخواست ان کے بیٹے شاہ زیر کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عبہر گل خان نے سماعت کی۔
دوران سماعت جسٹس عبہر گل نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے نظر بندی کے معاملے پر متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کیا ہے؟
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا کیس دیگر مقدمات سے مختلف ہے۔
جسٹس عبہر گل نے استفسار کیا کہ وہ کیسے؟ بتائیں آپ کا کیس مختلف کیسے ہے۔
وکیل نے جواب دیا کہ ایک ہی تاریخ کو ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کا اجلاس ہوا اور اسی تاریخ کو نظر بندی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ پہلے گرفتاری عمل میں لائی گئی، اس کے بعد ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کا اجلاس ہوا اور پھر نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔
جسٹس عبہر گل خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے کو دیکھ لے گی اور درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔ وقفے کے بعد عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کیے اور سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر چھاپوں کے خلاف درخواست پر جسٹس انعام امین منہاس نے سماعت کی۔
درخواست ملک عامر، شعیب شاہین اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے دائر کی گئی تھی جن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس مبینہ طور پر غیرقانونی چھاپے مار رہی ہے۔
درخواست کے مطابق کسی مجاز اتھارٹی کے حکم کے بغیر گھروں پر چھاپے نہیں مارے جا سکتے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام آباد پولیس کے حکام کو چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے سے روکا جائے۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی (آپریشنز) کو پیش ہونے کا حکم جاری کرتے ہوئے سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
