چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ایم این ایز، ایم پی ایز اور خاندانوں کی گرفتاریاں حالات کشیدہ کریں گی، ریاست طرزِ عمل تبدیل کرے۔”
ایکس پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ “ہمارے لوگ اور پارلیمنٹیرین گرفتار ہو رہے ہیں، جن کے ہاتھ میں اختیار اور طاقت ہے وہ ایک مرتبہ موجودہ حالات پر نظر(ثانی) کریں۔”
ہمارے لوگ اور پارلیمنٹیرین گرفتار ہو رہے ہیں- جن کے ہاتھ میں اختیار اور طاقت ہے، وہ ایک مرتبہ حالات پر نظر کریں-اس وقت ایم این ایز، ایم پی ایز اور خاندانوں کی گرفتاریوں سے حالات کشیدہ ہوں گے۔عظمیٰ بی بی اور نورین بی بی کی حراست کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے- ملک کو اس وقت مزید… pic.twitter.com/HnbRBoMQCB
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) September 21, 2026
واضح رہے گزشتہ روز عمران خان کی بہن علیمہ خان کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کردیا گیا تھا، پھر رات گئے ان کی دیگر دونوں بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور پولیس کی جانب سے یہ گرفتاریاں ‘نقص امن کے خطرے’ کے پیش نظر کی جارہی ہیں۔

بیرسٹر گوہر کا اپنی پوسٹ میں مزید کہنا تھا کہ اس وقت ایم این ایز، ایم پی ایز اور خاندانوں کی گرفتاریوں سے حالات مزید کشیدہ ہوں گے۔
انہوں نے عظمیٰ بی بی اور نورین بی بی کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاریوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملک کو اس وقت مزید تصادم کی نہیں بلکہ سیاسی کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت ہے، ریاست فوری طور پر اپنا طرزِ عمل تبدیل کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف انصاف مانگ رہے ہیں اور انصاف کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔



