پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کے کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں، اس کی نوعیت مکمل طور پر دفاعی ہے، جس کا مقصد کم سے کم دفاع کو یقینی بنانا ہے۔
ال عریبیہ انگلش کے پروگرام ’گلوبل نیوز ٹوڈے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا واضح کیا کہ “اس (مکہ معاہدہ) میں کچھ بھی جارحانہ نہیں ہے۔ کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں۔ یہ اجتماعی دفاعی صلاحیت ہے، اور یہ اجتماعی نوعیت کا ہے کیونکہ ان تمام ممالک کے دیگر اتحادوں، دیگر ممالک اور دیگر بلاکس کے ساتھ آزادانہ تعلقات ہیں۔”
جب ان سے پروگرام کے میزبان ٹام واٹسن نے سوال کیا کہ کیا یہ معاہدہ مسلم دنیا کے وسیع تر سکیورٹی ڈھانچے کی شکل اختیار کرسکتا ہے، تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معاہدے میں کہیں بھی اسے ’’مسلم اتحاد‘‘ قرار نہیں دیا گیا۔
🔴 BREAKING: Pakistan Armed Forces Spokesperson Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry stresses the Saudi Arabia-Turkey-Pakistan alliance is focused on regional stability and could expand to new partners. pic.twitter.com/QlxBqkHK0V
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) September 15, 2026
’’سب سے پہلے، آپ نے جو لفظ استعمال کیا ہے، یعنی ’مسلم سکیورٹی ڈھانچہ‘، اس معاہدے میں ایسی کوئی بات نہیں جس میں اسے مسلم اتحاد قرار دیا گیا ہو۔ ایسی کوئی شق موجود نہیں۔‘‘
’’اس کا مقصد علاقائی استحکام کا اتحاد قائم کرنا ہے۔ یہ صرف مسلم ممالک کے لیے بنایا جانے والا کوئی کلب نہیں ہے۔‘‘
جب ڈی جی آئی ایس پی آر سے پوچھا گیا کہ مکہ معاہدے کے تحت پاکستان نے کن امور کا پابند ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ برادر ممالک سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ یہ معاہدہ پاکستان کو تینوں ممالک کے مشترکہ دفاع کے امور میں پابند کرتا ہے۔
اگر شراکت داروں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ ہو جائے تو پاکستان کس طرح ردعمل دے گا، اس سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ “دفاعی معاہدوں کو عملی شکل دینے کا طریقہ کار کبھی بھی عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔”
انہوں نے کہا کہ یہ “تینوں ممالک فیصلہ کریں گے کہ کس طرح ردعمل دینا ہے، وہ لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی کے مطابق اسے عملی جامہ پہنائیں گے۔”
اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہ پاکستان اس معاہدے کے ذریعے کسی ملک کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے، ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے شراکت داروں اور دوستوں کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے پر یقین رکھتا ہے۔
اس کے بعد میزبان نے اس معاہدے کے پاک چین تعلقات سے متعلق سوال کیا کہ کیا یہ پاکستان کے چین کیساتھ تعلقات کے لیے ’’معاون یا مسابقتی‘‘ میں سے کیا کردار ادا کر رہا ہے تو لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اتحاد چین کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات سے متصادم نہیں بلکہ پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط اور معاون بنانے والا ہے۔
’’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاک سعودی اور پاک ترک تعلقات اچانک وجود میں نہیں آئے۔ چینی اس بات کو سمجھتے ہیں۔ دنیا بھی مجموعی طور پر سمجھتی ہے کہ یہ تعلقات کتنے تاریخی ہیں۔ ہم نے انہیں باضابطہ شکل دے دی ہے۔‘‘
’’کسی کو اس (مکہ معاہدہ) پر کوئی اعتراض نہیں۔ سب سمجھتے ہیں کہ یہ دفاعی نوعیت کا ہے، سب سمجھتے ہیں کہ اس کا مقصد خطے میں استحکام اور امن برقرار رکھنا ہے، اور اس میں شامل تینوں ممالک کے چین کے ساتھ بھی بہترین تعلقات ہیں۔‘‘
یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
معاہدے کے بعد اتحاد کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ابتدائی طور پر پاکستان تین سال کے لیے اتحاد کے سیکریٹریٹ کی سربراہی کرے گا۔
معاہدے پر دستخط کے بعد سے اس کے دائرہ کار میں ممکنہ توسیع کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے۔ ترکیہ کی جانب سے ابتدائی طور پر مصر کو اتحاد میں شامل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، تاہم قاہرہ کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد واضح کیا تھا کہ یہ دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے۔
