امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی لاک ڈاؤن کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بجائے پٹرولیم لیوی ختم کرکے مسئلہ حل کیا جائے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ اس وقت 41 شہروں میں ہمارے دھرنے چل رہے ہیں، آج کراچی اور کل لاہور میں بڑا جلسہ ہو گا۔ جبکہ 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہو گا۔
حکومت نے عوام کو لائنوں میں لگانے کا نظام بنا دیا ہے، 1567 ارب روپے لیوی جمع کرکے 25 ارب روپے کا ریلیف دیا جا رہا ہے، پٹرولیم لیوی کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے، روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا طریقہ ختم کیا جائے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ٹرانسپورٹ، ٹریکٹرز اور دیگر شعبے ڈیزل پر چلتے ہیں، ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیوں نہیں کی گئی؟
انہوں نے کہا کہ دکانداروں اور تاجروں کو دباؤ میں لانے کا نظام قابل قبول نہیں، پولیس کو دکانیں بند کرانے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز اپنی بیٹی کی گریجوایشن کی تقریب میں لندن گئیں ، طیارے کے استعمال کے معاملے کی مکمل تحقیقات کرکے ریکارڈ قوم کے سامنے لایا جائے،کس سے پوچھ کر یہ جہاز خریدا گیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جب بھی شریف خاندان اقتدار میں آتا ہے ، کسان کا حال برا ہو جاتا ہے۔ اور جاگیردار پنپتے رہتے ہیں ، ان سے ٹیکس نہیں لیا جاتا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ سرکاری اخراجات کم کرنے کے بجائے عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے، وزراء اور سرکاری افسران کی گاڑیاں 1300 سی سی تک محدود کی جائیں۔ انہوں نے حکومت سے سود کی شرح کم کرنے کے وعدے پر عملدرآمد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
حکومت کا ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے پر غور
واضح رہے وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر ملک بھر میں پٹرولیم اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت سرکاری و نجی دفاتر میں چار روز کام کی تجویز پر غور کیا گیا جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعطیلات رکھنے کی تجویز دی گئی۔ سسٹم کی بنیاد پر کام کرنے کے فارمولے کے علاوہ گھر سے کام کرنے (ورک فرام ہوم) کی پالیسی پر بھی سنجیدگی سے غور کیا گیا۔
اس کے علاوہ پٹرول و ڈیزل کے اخراجات کو محدود کرنے کے لیے 50 فیصد سرکاری گاڑیوں کو استعمال نہ کرنے کی تجویز بھی اجلاس میں پیش کی گئی۔
اسمارٹ لاک ڈاؤن کی بات اجلاس میں ہوئی نہ میرے علم میں ہے، طارق فضل چودھری
دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی بات اجلاس میں ہوئی اور نہ ہی میرے علم میں ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر اسرائیل اور امریکی حملوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظرمارچ 2026 میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔ جس میں دفاتر اور تعلیمی اداروں میں تین روز چھٹی اور ورک فراہم ہوم کیا گیا۔ بازاروں پر بھی لاک ڈاؤن کا نفاذ ہوا تھا۔


