پاکستان مسلم لیگ(ن) نے آزاد ریاست جموں وکشمیر کے صدارتی الیکشن کیلئے ڈاکٹر نجیب نقی خان کو اپنا امیدوار نامزد کردیا ہے۔
پنجاب کی سینئروزیر مریم اورنگزیب نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے نجیب نقی کوصدارت کیلئے نامزد کرتے ہوئے انہیں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر جناب محمد نواز شریف نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان صاحب کو آزاد ریاست جموں وکشمیر کے صدر کے منصب پر نامزد کیا ہے اور انہیں صدر آزاد جموں وکشمیر کے عہدے کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ جماعت اور اس کی قیادت کی جانب سے ڈاکٹر محمد نجیب نقی کو…
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) September 16, 2026
مریم اورنگزیب نے ڈاکٹر نجیب نقی کو صدارتی منصب کیلئے نامزدگی پرمبارکباد بھی پیش کی۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے ریاست کے سب سے اہم آئینی عہدے کے لیے ایسے امیدوار کو نامزد کیا ہے جس کے اپنے حلقے میں انتخابات ہونا ابھی باقی ہیں۔ ڈاکٹر نجیب نقی ایل اے 23 سدھنوتی سے (ن) لیگ کے امیدوارتھے جہاں دیگر 6 حلقوں سمیت 10 اگست کو ہونے والے انتخابات آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ملتوی کر دیے تھے جو تاحال منعقد نہ کیے جا سکے۔
دوسری جانب عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی (ن) لیگ نے ریاست کی تینوں ڈویژنز میں آئینی عہدوں کی تقسیم برابری کی بنیاد پر کی ہے۔ اسپیکر اسمبلی طارق فاروق کا تعلق میرپور ڈویژن سے، وزیر اعظم افتخار گیلانی کا تعلق مظفرآباد ڈویژن سے جبکہ صدر کے لیے نامزد امیدوار ڈاکٹر نجیب نقی پونچھ ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں۔
صدارتی الیکشن کب ہوگا؟
صدر آزاد جموں و کشمیر کا یہ آئینی عہدہ گزشتہ برس صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کے بعد سے خالی ہے۔ ان کے انتقال کے بعد اسپیکر قانون ساز اسمبلی لطیف اکبر چوہدری گزشتہ مہینے 3 مراحل میں ہونے والے انتخابات کے بعد نئے اسپیکر طارق فاروق کے انتخاب تک قائم مقام صدر کی ذمے داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔
موجودہ قائم مقام صدر طارق فاروق نے ہی مخصوص نشست پر اسمبلی پہنچنے والے بیرسٹر افتخار گیلانی سے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیا تھا۔
عام انتخابات اور حکومت سازی کے بعد آئینی تقاضوں کے مطابق صدرِ ریاست کا انتخاب ہونا باقی ہے جو کہ آزاد جموں و کشمیر کی آئینی ساخت کے تحت قانون ساز اسمبلی کے ارکان کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ اس مقصد کے کے لیے انتخابات کا شیڈول بھی جاری کردیا گیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنرآزاد کشمیر کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی 19 ستمبر کو جمع ہونگے جن کی اسی روز جانچ پڑتال کی جائے گی۔
23ستمبرکو کاغذات نامزدگی واپس لیے جاسکیں گے، صدر ریاست کا انتخاب 24 ستمبر صبح 10 سے دوپہر 1 بجے تک اسمبلی سیکریٹریٹ مظفرآباد میں ہوگا۔
ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کون ہیں؟
ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان 19 جنوری 1964 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ وہ تحریک آزادی کشمیر کے عظیم ہیرو کرنل خان محمد خان کے پوتے اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر کے بہنوئی ہیں۔
انہوں نے ایچی سن کالج سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور 1988 میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا۔
ڈاکر نجیب نقی نے 1990 میں اپنے والد کرنل نقی محمد کی وفات کے بعد سیاسی میدان میں قدم رکھا اور 1996 میں ممبر اسمبلی ہو کر اپوزیشن میں رہے۔ 2001 میں وہ ممبر کشمیر کونسل منتخب ہوئے اور پھر 2006 میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے پلیٹ فارم سے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیر صحت کا عہدہ سنبھالا۔
اپنے سیاسی کیریئر کے دوران وہ کل 5 مرتبہ ممبر اسمبلی منتخب ہوئے اور صحت، تعلیم، خزانہ، ترقیاتی و منصوبہ بندی کے وزیر بھی رہے۔
ڈاکٹر نجیب نقی نے اپنے سیاسی سفر میں سدھنوتی کی ترقی اور بنیادی سہولیات پر بھی توجہ دی۔ ان کی کوششوں سے علاقے کو ضلع کا درجہ دلانے اور ترقیاتی منصوبوں کے فروغ میں کردار ادا کیا گیا۔
آزاد کشمیر کے ترقیاتی بجٹ میں اضافے اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کے ایکشن پلان کی تیاری میں بھی ان کا کردار رہا۔
ڈاکٹر نجیب نقی کا تعلق سدھن قبیلے سے ہے اور ان کا خاندان طویل عرصے سے آزاد کشمیر کی سیاست اور عوامی خدمت سے وابستہ ہے۔ان کے والد کرنل محمد نقی خان آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن اور وزیر صحت و خوراک رہے جبکہ ان کے دادا خان محمد خان کو بابائے پونچھ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔


