کراچی: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے حکومت کی فیول ریلیف اسکیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ طریقہ کار کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوی ایشن ترجمان کے مطابق حکومتی اسکیم میں جعلی آئی ڈیز کے ذریعے ممکنہ فراڈ کا خطرہ موجود ہے، جس کا مالی بوجھ پیٹرول پمپ مالکان پر پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے پیٹرول پمپ مالکان کی مشکلات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک پیٹرول پمپ پر بیک وقت درجنوں موٹر سائیکلیں موجود ہوتی ہیں، اس لیے ہر صارف کی انوائس چیک کرنا عملی طور پر مشکل ہوگا، جس سے لمبی قطاروں اور آپریشنل مسائل کا خدشہ ہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت اسکیم کا طریقہ کار ڈیلرز سے مشاورت کے بعد طے کرے جبکہ ریلیف کی رقم کی ادائیگی حکومت یا آئل کمپنیوں کے ذریعے کی جائے تاکہ ڈیلرز کو براہ راست ذمہ دار نہ بنایا جائے۔
آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین انعام الحق چوہدری نے بھی حکومت سے سبسڈی کے طریقہ کار کو واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پمپ مالکان کو تاحال اسکیم کے حوالے سے مناسب طور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا جبکہ کاروباری سرمایہ پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔
پیٹرول ڈیلرز نے معاملے پر مشاورت کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، جس میں اسکیم کے طریقہ کار، تحفظات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اجلاس کے بعد آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا۔


