کراچی: اسٹیٹ بینک پاکستان نے مالی سال کی دوسری مانیٹری پالیسی میں شرح سود 11.5 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلسل دوسری مرتبہ پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی حالات کا جائزہ لینے کے بعد موجودہ شرح سود میں تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ موجودہ معاشی صورتحال میں پالیسی ریٹ کو مستحکم رکھنا ضروری ہے۔
مرکزی بینک نے عالمی عوامل کو بھی مہنگائی کے لیے اہم خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں مہنگائی پر اضافی دباؤ پیدا ہو رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق مشرق وسطیٰ تنازع میں حالیہ شدت کے باعث پہلے ہی سے بلند عالمی اجناس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو چکا ہے اور سپلائی چین میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔ اسی وجہ سے گزشتہ مہینے مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
واضح رہے کہ مانیٹری پالیسی میں دوسری مرتبہ کوئی اضافہ یا کمی نہیں کی گئی جبکہ اس سے قبل اپریل 2026 میں مانیٹری پالیسی میں 100 پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق موجودہ حالات میں مہنگائی اور دیگر معاشی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے فی الحال شرح سود میں کمی یا اضافہ نہیں کیا گیا۔ جبکہ حالیہ گھریلو معاشی اعداد و شمار مجموعی طور پر مانیٹری پالیسی کمیٹی کی توقعات کے عین مطابق رہے۔
اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں سالانہ بنیادوں پر 11.1 فیصد ہوگئی، تاہم کور انفلیشن توقعات کے مقابلے میں قدرے کم رہی۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کے مطابق ترسیلات زر اور زیادہ مالیاتی آمد کے باعث بیرونی کھاتے پر دباؤ قابو میں رہا، جبکہ چوتھی سہ ماہی میں سست روی کے بعد معاشی سرگرمیاں بتدریج بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
کمیٹی نے اندازہ لگایا کہ موجودہ مانیٹری پالیسی کا مؤقف درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر لانے کے لیے موزوں ہے۔ اور اسٹیٹ بینک نے عالمی معاشی صورتحال اور مہنگائی کے دباؤ کے باوجود پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
The Monetary Policy Committee (MPC) decided to keep the policy rate unchanged at 11.5% in its meeting held on September 14, 2026, with the majority decision of seven out of ten members.
For details: https://t.co/V5zzulT4Ll#SBPMonetaryPolicy pic.twitter.com/bbFI6OG00B— SBP (@StateBank_Pak) September 14, 2026
ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق موڈیز کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو بڑھا کر بی تھری کر دیا گیا جبکہ ملک نے بین الاقوامی سرمائے کی مارکیٹوں سے یورو بانڈز کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کیے۔
انہوں نے کہا کہ ستمبر میں کاروبار اور صارفین دونوں کی مہنگائی توقعات میں اضافہ ہوا جبکہ جون میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کی پیداوار میں 3.5 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اور مینوفیکچرنگ کی پیداوار میں کمی سے مالی سال 2026 کی مجموعی نمو 5.0 فیصد پر آ گئی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران مالیاتی استحکام بجٹ کے ہدف سے زیادہ رہا اور ٹیکس وصولی مالی سال 2027 کے دوران جولائی، اگست میں ہدف کے مطابق رہی۔ چیلنجنگ عالمی معاشی حالات کے درمیان مرکزی بینک زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی بینک نے جون 2023 میں شرح سود کو 22 فیصد کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد مہنگائی میں کمی کے ساتھ بتدریج شرح سود میں مجموعی طور پر 10.5 فیصد کمی کی تھی۔



