جماعت اسلامی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی مخالفت کی ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے اکتوبر 4 کے لانگ مارچ سے قبل اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے جانے کی قیاس آرائیوں کے بیچ جوائنٹ اپوزیشن کا وفد لے کر اسلام آباد میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے ملاقات کی جہاں یہ تمام معاملات زیر بحث آئے۔
وفد میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس، سینیئر سیاست دان مصطفی نواز کھوکھر، سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ، سابق اسپیکر اسد قیصر، اور عامر ڈوگر سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جسے قبول کرلیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان، معاشی صورت حال، عوام کے حق حکمرانی اور جمہوری عمل کی بحالی کے لیے ایک متفقہ قومی ایجنڈے کی اشد ضرورت ہے۔
اے پی سی کے بارے میں علامہ ناصر عباس نے کہا کہ اس کا مقصد یہ ہے سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر پاکستان کو درپیش مسائل پر بات چیت کریں اور ان کے حل کی راہ بھی نکالیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملاقات میں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے جیسے فیصلے پاکستان کو مضبوط نہیں کریں گے بلکہ ملک کو مزید بحرانوں میں دھنستا چلا جائیگا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پاکستان کسی ایک سیاسی جماعت، ادارے، فوج یا بیوروکریسی کا نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے، جس کے قیام کے لیے لوگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اب خون خرابہ بند ہونا چاہیے اور سیاسی و سماجی تقسیم ختم کرنے کے لیے تمام فریقوں کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت
امیر جماعت اسلامی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی آئین کو معطل یا پامال کرنے اور موجودہ نظام کو مخصوص مقاصد کے لیے متاثر کرنے والے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو بہت پہلے بامعنی مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے تھا، تاہم تاخیر کے باعث معاملات خراب ہوئے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے لیے قائم کمیٹی کا فیصلہ خوش آئند ہے، لیکن بات چیت محض رسمی ملاقات یا فوٹو سیشن تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کے نتیجے میں پیش رفت ہونی چاہیے۔
عمران خان سے ملاقات اور صحت کے معاملے پر تشویش
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ عمران خان پی ٹی آئی کے بانی ہیں اور ان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں پر پابندی درست نہیں۔ مذاکرات کے بعد انہیں ملاقاتوں تک رسائی ملنی چاہیے۔
انہوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق تحفظات دور کرنے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود عمران خان سابق وزیراعظم اور سیاسی عمل کی اہم شخصیت ہیں، اس لیے ان کی صحت سے متعلق خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے گرفتار خواتین، بشمول عمران خان کی بہنوں اور ڈاکٹر یاسمین راشد، کے معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ زیر حراست سیاسی رہنماؤں کو صحت کے مسائل کے پیش نظر سہولتیں ملنی چاہئیں۔
انہوں نے اعجاز چوہدری، محمود الرشید اور عامر چیمہ سمیت دیگر گرفتار رہنماؤں کی صحت سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ضمانتوں میں رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔
امیر جماعت اسلامی کے مطابق حکومت اگر ان مطالبات پر پیش رفت کرے تو سیاسی کشیدگی کم اور صورت حال بہتر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو صرف اپنے مطالبات کے بجائے جمہوری، آئینی اور سیاسی عمل کی بحالی کے لیے بھی مشترکہ ایجنڈا بنانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مہنگائی اور دہشت گردی کا خاتمہ، آزاد عدلیہ کا قیام، اور آزاد الیکشن کمیشن کے تحت آزاد اور شفاف انتخابات، اور صوبائی خودمختاری تمام سیاسی جماعتوں اور پاکستانی عوام کے مشترکہ اصول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں جتنے بھی ممالک ہیں، ان میں مختلف پارٹیوں کی حکومت اور بڑی آبادی کے باوجود قانونی کی حکمرانی اور انصاف کے بول بالا ہونے کے باعث عوام اتفاق و اتحاد سے رہنے کے قابل ہوتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہی شکوہ ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوا، اور ہم انصاف کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔
ان کے مطابق انہیں کہیں سے انصاف نہیں ملا، “نہ ہائی کورٹ سے، نہ سپریم کورٹ سے، نہ پارلیمان سے، اسی لیے آج ہم اس نہج پر آ گئے اور کہہ رہے ہیں کہ ہم عوام کے سامنے اپنی آواز اٹھانی ہے۔”
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ آج وہ پورے خلوص سے بغیر کوئی پیشگی شرط رکھے حکومت سے مذاکرات کرنے جا رہے ہیں جس دوران “حکومت کو سننے کے بعد اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھیں گے۔”
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے اور اگر “انصاف ہمارے لیے چھٹی پر نہیں ہے تو ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔”
