شمالی کوریا نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے پرواز کا راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھنے والے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے ہفتے کو ایک بیان میں میزائل تجربے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔
ان کے مطابق میزائل کم بلندی پر پرواز کے دوران اپنا راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے جنوبی کوریا اور جاپان کو اس “میزائل کی تیز رفتاری کا اعتراف” کرنے کو کہا مگر میزائل کی رفتار نہیں بتائی۔
میزائل کی خصوصیات گنواتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ “اس میزائل کے حملے سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔”
جنوبی کوریا کی فوج نے اس سے قبل کہا تھا کہ شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا، جس نے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب 700 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔
Instruction by the Prime Minister in Response to the Suspected Ballistic Missile Launch by North Korea (06:40) pic.twitter.com/mRScHFlYTg
— PM’s Office of Japan (@JPN_PMO) October 2, 2026
کم یو جونگ کے مطابق میزائل کا تجربہ خصوصی مشن سونپے گئے فوجی یونٹ نے کیا جبکہ کم جونگ اُن نے خود اس مشق کی نگرانی کی۔
انہوں نے جنوبی کوریا اور جاپان کی جانب سے میزائل کے طے کردہ فاصلے سے متعلق بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اندازوں سے ان کی میزائلوں کی نگرانی کی کمزور صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔
کم یو جونگ نے دعویٰ کیا کہ جب میزائل کو لہروں جیسی پرواز کے راستے پر چلایا گیا تو مخالف فریق اس کے پہلے مرحلے کے بعد بھی ہدف کا سراغ لگانے میں ناکام رہا۔ تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔
U.S. Pacific Command Statement on DPRK Missile Launch
The Democratic People’s Republic of Korea launched one ballistic missile on October 03, 2026 (KST). We are aware of the missile launch and are consulting closely with our allies and partners. Based on current assessments,… pic.twitter.com/ety9rVAtSV
— U.S. Pacific Command (@USPACOM) October 3, 2026
شمالی کوریا رواں سال اب تک 10 سے زائد مرتبہ میزائل تجربات کر چکا ہے۔ پیانگ یانگ بعض تجربات کو نئے ہتھیاروں کے نظام کی آزمائش قرار دیتا رہا ہے۔ ان میں سے بعض تجربات جنوبی کوریا اور امریکا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف شمالی کوریا کے احتجاج کے بعد کیے گئے۔
یہ میزائل تجربہ کم یو جونگ کے جمعے کو جنوبی کوریا کے معافی کے مطالبے کو مسترد کرنے والے بیان کے ایک روز بعد کیا گیا۔
جنوبی کوریا نے الزام عائد کیا تھا کہ غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) میں شمالی کوریا کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے اس کے فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ دونوں ملکوں کے درمیان واقع ہے اور سخت فوجی نگرانی میں رہتا ہے۔
