پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں تحریک انصاف کے 90 فیصد مطالبات مان لیے گئے تھے، تاہم خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے معاہدہ قبول نہ کرنے کے باعث بات آگے نہ بڑھ سکی۔
پیپلز پارٹی رہنما شیری رحمان نے ہم نیوز کے پروگرام “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جامع مذاکرات ہوئے اور مذاکرات کی شروعات مثبت انداز میں ہوئی تھی۔ جبکہ دونوں فریقین بیشتر معاملات پر متفق ہوچکے تھے اور اس بات کی تیاری کی جارہی تھی کہ معاہدے پر دستخط کون کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران تمام معاملات حل ہوچکے تھے، لیکن اپوزیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اس معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جس کے بعد مذاکرات ناکام ہوئے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے تقریباً تمام مطالبات مان لیے گئے تھے، تاہم ایک دن میں تمام چیزیں طے نہیں ہوسکتیں۔ اور اپوزیشن سے کہا تھا کہ مذاکرات کی میز پر اپنے مسائل حل کرے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں اور دھونس کی سیاست سے فیصلے تبدیل نہیں کیے جاسکتے، اور اسلام آباد پر چڑھائی کرنا مسائل کے حل کا بہتر طریقہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف کا احتجاج اکثر پرتشدد ہوجاتا ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے بھی ماضی میں پرامن احتجاج کیا ہے لیکن اس دوران ایک پتہ تک نہیں ٹوٹا۔ اور خیبرپختونخوا میں امن و امان سے متعلق معاہدہ ہوجاتا تو اپوزیشن کے لیے بہتر ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ براہ راست افغانستان سے بات چیت نہیں کرسکتا، خیبرپختونخوا اس وقت دہشت گردی کا شکار ہے اور پیپلزپارٹی کے رہنما بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔
پیپلزپارٹی رہنما نے کہا کہ پانچ ضم شدہ اضلاع میں ایمرجنسی لگانے پر پہلے اپوزیشن نے رضامندی ظاہر کی تھی۔ مذاکرات ختم ہونے سے اپوزیشن کو نہ ریلیف ملے گا اور نہ ہی وہ بند گلی سے نکل سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران 80 سے 90 فیصد مطالبات مان لیے گئے تھے اور اپوزیشن کے ساتھ جامع مذاکرات کیے گئے، تاہم اب سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 سال جیل کاٹی ہے، اس لیے سیاسی جدوجہد اور احتجاج کے حوالے سے پیپلزپارٹی کا اپنا تجربہ موجود ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات
واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا آخری راؤنڈ 3 اکتوبر کو تقریباً 10 گھنٹے سے زائد چلا۔ لیکن مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ہی ختم ہو گئے تھے۔ دونوں فریقین نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار ایک دوسرے کو قرار دیا۔
حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، طلال چوہدری، طارق فضل چوہدری مذاکراتی ٹیم میں شریک تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر، اعجاز جاکھرانی نے کی، اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر، علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا اور عامر ڈوگر شامل تھے۔
عمران خان سے ملاقات پر آمادگی
ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور رہنما اسد قیصر کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی جبکہ پی ٹی آئی نے حکومت کے تمام مطالبات مان لیے۔
مذاکراتی ذرائع نے مزید بتایا کہ لانگ مارچ کی کال واپس لینے کی صورت میں اپوزیشن کے دیگر مطالبات پر بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مزید بات چیت ہو گی، تاہم 10 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں بعد ازاں ڈیڈلاک پیدا ہو گیا۔




