سعودی عرب پر ڈرون حملے کے بعد عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عراقی وزیراعظم آفس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مطابق برطرف کیے گئے کمانڈر جنوبی عراق کے صوبے میسان میں فوجی کارروائیوں کی سربراہی کر رہے تھے۔
عراقی وزیرِاعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق سعودی عرب پر حالیہ ڈرون حملے عراق سے کیے گئے تھے۔ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق عراقی وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
عراقی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عراقی وزیراعظم نے حملوں کے بارے میں فوری تحقیقات کرنے اور حملے میں ملوث ہر شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
Iraqi military commander dismissed after drone attacks against Saudi Arabia, prime minister’s office says https://t.co/B54TiqQTMW https://t.co/B54TiqQTMW
— Reuters (@Reuters) September 12, 2026
دوسری جانب سعودی عرب نے حملے کے بعد اپنی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا ہے۔ سعودی عرب اور عراق کے مطابق پائپ لائن پر حملہ عراق سے کیا گیا، جہاں ایران نواز ملیشیا سرگرم ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق پائپ لائن کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، عراقی وزیراعظم کی درخواست پر فی الحال جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
#Statement | The Foreign Ministry expresses the Kingdom of Saudi Arabia’s strongest condemnation of targetting the East-West Pipeline in the Riyadh and Madinah regions by several drones launched from Iraq, which resulted in injuries and some damage that is currently being recovered.
— Foreign Ministry 🇸🇦 (@KSAmofaEN) September 11, 2026
ادھر یمنی حکومت کے ذرائع کے مطابق حوثیوں نے جمعہ کو بحیرۂ احمر کے داخلی راستے پر واقع اسٹریٹجک جزیرے پیرم پر قبضہ کر لیا۔
رائٹرز نے ایرانی ذرائع سے دعویٰ کیا کہ ایران نے گزشتہ ہفتے حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مزید فنڈز، ہتھیار اور اعلیٰ سطح کے افسران فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ سعودی بحری جہازوں کے سوا تمام جہازوں کے لیے سمندری آمدورفت محفوظ ہے، جبکہ سعودی جہازوں پر پہلے سے اعلان کردہ پابندی برقرار ہے۔
