امریکا میں پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے اور ایندھن کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع اور روس یوکرین جنگ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے، جس کے اثرات امریکی صارفین تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے مطابق امریکا میں گیسولین کی اوسط قیمت 4.14 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق گیس کی قیمتوں نے 14 سالہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے، اس سے قبل 2012 میں امریکا میں گیسولین کی قیمت 3.83 ڈالر فی گیلن تک پہنچی تھی تاہم موجودہ قیمت اس سطح سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث امریکی شہریوں کے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور روس یوکرین جنگ نے عالمی سطح پر خام تیل اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
امریکا میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف گاڑیوں کے مالکان کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں بلکہ نقل و حمل، اشیائے ضروریہ اور دیگر خدمات کی لاگت میں بھی اضافے کا امکان ہے۔
اگرعالمی تنازعات کے باعث توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو امریکا میں پیٹرول اور گیس کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔



