پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی اپنے اوپر لگنے والے الزامات پر آبدیدہ ہو گئے۔
ہم نیوز کے پروگرام ’صبح سے آگے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے میرے خط سے متعلق جو کہا برا لگا،ان سے ایسی بات کی توقع نہیں تھی۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی قیادت کو خط لکھ کراحتجاج مؤخر کرنے کی تجویز دی تھی جس پر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی شدید برہم ہوئے اور پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگر احتجاج ملتوی کرنے کا خط ملا تو ردی کی ٹوکری میں پھینک دوں گا۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مجھ پر جو الزامات لگے ان پردکھ ہے،میں آج بھی پی ٹی آئی کی ہی بات کرتا ہوں،4اکتوبر لانگ مارچ کی بات ہوئی تومیں نے خط لکھا اور تجویز دی کہ اسے موخر کر دیا جائے۔
سابق صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ میں تو عمران خان کے سامنے بھی حق کی بات کرتا تھا، ان کے سامنے جہانگیر ترین سے بھی لڑائی ہوئی تھی، میں نے سہیل آفریدی کا دفاع کیا کہ وہ دہشت گردوں کے سہولت کارنہیں، میں نے کہا ان کی حکومت ٹھیک چل رہی ہے، یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس اچھا کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے 26 نومبر احتجاج کے دوران بھی اس قسم کے خدشات کا اظہار کیا تھا، میں ہمیشہ اصول کی بات کرتا ہوں ، مجھے کسی کا ڈر اور خوف نہیں۔
شوکت یوسفزئی پروگرام کے دوران آبدیدہ ہو گئے اور کہا سہیل آفریدی نے میرے خط سے متعلق جو کہا برا لگا، ان سے ایسی بات کی توقع نہیں تھی،انہوں نے واضح کیا کہ میں نے خط میں اپنے ورکرز کو تحفظ دینے کی بات کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ میرا نام سیاسی کمیٹی میں شامل نہیں ہے،عمران خان کو ریلیف کیلئے ہم مذاکرات سے بھی راستہ بنا سکتے ہیں، کبھی کفن لیکر جانے کی بات تو کبھی مرمٹنے کے نعرے یہ سیاست نہیں ہے۔
شوکت یوسفزئی نے دعویٰ کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر پر بھی دباؤ ہے، باہر بیٹھ کر ہمارے خلاف پارٹی سے جفا کی باتیں ہو رہی ہیں، باہربیٹھ کریویٹوب پرفضول باتیں کرنے والوں نے عمران خان اور پارٹی کو بھی نقصان پہنچایا۔
یاد رہے پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا تھا تاہم 26 ستمبر کو پی ٹی آئی کی قیادت نے مارچ 4 اکتوبر تک موخر کرنے کا اعلان کیا۔

