پشاور: ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی بطور ملزم نامزدگی کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کے احکامات برقرار رکھے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں بطور ملزم نامزدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست خصوصی پراسیکیوٹر کی جانب سے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) اور نادرا کی رپورٹس کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی تھی، جن کی بنیاد پر سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں ملزم نامزد کیا گیا۔
سماعت کے دوران خصوصی پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ 9 اور 10 مئی کے ریڈیو پاکستان حملہ کیس کا ٹرائل پہلے ہی انسداد دہشت گردی عدالت میں جاری ہے اور فرانزک و نادرا رپورٹس کی بنیاد پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، پی ٹی آئی پشاور کے ضلعی صدر عرفان سلیم اور ایک اور کارکن کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے ویڈیو فوٹیج یو ایس بی کے ذریعے فرانزک لیبارٹری بھجوائی، جو درست طریقہ کار نہیں تھا۔ نئے نامزد ملزمان کے نام ابتدائی چالان میں شامل نہیں تھے بلکہ بعد میں شامل کیے گئے۔
ریڈیو پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ کے وکیل شبیر حسین گیگیانی نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فرانزک رپورٹس کو چیلنج کرنے کی درخواست ملزمان کی جانب سے دائر ہونی چاہیے تھی اور خصوصی پراسیکیوٹر اس انداز میں رپورٹس کو چیلنج کرنے کا مجاز نہیں۔
دلائل سننے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے خصوصی پراسیکیوٹر کی درخواست مسترد کردی۔
سہیل آفریدی کی وزارت اعلیٰ سے متعلق قانونی مؤقف
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی اس مقدمے میں سزا یافتہ قرار پاتے ہیں تو وہ خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ سے محروم ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سزا کی صورت میں صوبائی حکومت کی تحلیل اور سہیل آفریدی کی تاحیات نااہلی کا معاملہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے پہلے پولیس رپورٹ مسترد کی تھی
اس سے قبل انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ کو نامکمل اور غیر حتمی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔
18 ستمبر کو جج ولی محمد نے تفتیشی افسر کو پی ایف ایس اے کی فرانزک رپورٹ اور نادرا کی شناختی رپورٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
فرانزک رپورٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی شناخت کا دعویٰ
رواں سال پی ایف ایس اے نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی 16 ویڈیوز کا فریم بہ فریم جائزہ لیا تھا۔
فرانزک رپورٹ کے مطابق فوٹیج میں نظر آنے والے بعض افراد کے چہروں کی مماثلت سہیل آفریدی، تیمور جھگڑا، کامران بنگش اور عرفان سلیم سے ظاہر ہوئی۔
تاہم فرانزک تجزیہ بنیادی طور پر بصری مواد تک محدود تھا۔ رپورٹ میں بعض ویڈیوز میں اضافی متن یا لوگو شامل ہونے کے شواہد جبکہ دو ویڈیوز میں کلپس جوڑے جانے کے آثار بھی بتائے گئے تھے۔
رپورٹ میں افراد کی شناخت سے متعلق نتائج دیئے گئے، تاہم بعد کی رپورٹس کے مطابق اس میں یہ حتمی طور پر نہیں کہا گیا کہ مذکورہ ویڈیوز ریڈیو پاکستان کے واقعے ہی کی فوٹیج تھیں۔
ریڈیو پاکستان پر حملے کا مقدمہ
یہ مقدمہ 9 مئی 2023 کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج کے دوران پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے سے متعلق ہے۔
مظاہرین نے تاریخی عمارت میں توڑ پھوڑ کی اور اسے آگ لگا دی تھی۔ عمارت میں ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے دفاتر بھی موجود تھے۔
ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں پہلے ہی 75 ملزمان کے خلاف ٹرائل جاری ہے، جن میں موجودہ اور سابق ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں۔ ان ملزمان پر جون 2025 میں مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے اور انہوں نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔



