تہران: ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی عوام کے نام 25 صفحات پر مشتمل کھلا خط جاری کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت اور اسرائیل کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان پُرامن بقائے باہمی ممکن ہے، تاہم اس کے لیے امریکا کو اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانا ہو گی۔
انہوں نے امریکی عوام پر زور دیا کہ وہ بیرون ملک جنگوں اور اسرائیل کی حمایت سے متعلق حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کریں اور صدر ٹرمپ کی جنگی کارروائیوں سے خود کو الگ کرتے ہوئے ان کی مذمت کریں۔
امریکی عوام کو مکمل معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، حسین مجبی
ایرانی ترجمان نے صدر ٹرمپ کو ناقابل اعتماد قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی عوام کو خطے کی صورت حال سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ اور حقائق سامنے آنے کے بعد امریکی عوام اپنی رائے اور فیصلوں پر نظرثانی کرسکتے ہیں۔
پاسداران انقلاب نے ٹرمپ انتظامیہ پر جنگی کارروائیوں اور معاشی پابندیوں کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکا فوجی مداخلت اور مبینہ جنگی کارروائیاں بند کرے۔
حسین محبی نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے سے متعلق امریکی دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محدود تعداد میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت اس بات کا ثبوت نہیں کہ آبی گزرگاہ مکمل طور پر کھل گئی ہے۔
Iran’s Revolutionary Guards woo US voters with open letter https://t.co/hVt5tq21Mf https://t.co/hVt5tq21Mf
— Reuters (@Reuters) September 29, 2026
پاسداران انقلاب کے خط میں ٹرمپ انتظامیہ پر ایران کے جوہری پروگرام کو جواز بنا کر ملک کے قدرتی وسائل اور دولت پر قبضے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق انہیں توقع نہیں کہ خط کے نتیجے میں امریکی حکومت اپنی پالیسی فوری طور پر تبدیل کرے گی، تاہم ایرانی قیادت کا مقصد امریکی عوام تک اپنا مؤقف پہنچانا ہے۔
واضح رہے کہ یہ خط امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے تقریباً پانچ ہفتے قبل سامنے آیا ہے۔



