وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے پمز میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو جلانا ہی ہے تو پھراسپتال بند کر دینے چاہئیں۔
ہم نیوزکے پروگرام خبراور تجزیہ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرصحت نے کہا کہ کسی کی غلطی یا غفلت کے باعث معصوموں کی جان نہیں جانی چاہیے، واقعے پرمٹی نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ ذمہ داروں کی نشاندہی کرکے انہیں سزا دینی چاہیے۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات وزیراعظم خود چاہتے ہیں اور انہوں نے اس مقصد کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے۔
کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کی جائے گی اور آخری فیصلہ بھی وزیراعظم ہی کریں گے، انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی کمیٹی 48 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی جبکہ آئندہ چند گھنٹوں میں بھی رپورٹ آنے کی توقع ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں اور رپورٹ پر من و عن عمل کیا جائے گا، کمیٹی میں بلائے گئے ارکان کی فہرست کافی طویل ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر معاملے میں مجرمانہ غفلت ثابت ہوئی تو مقدمات درج ہونے چاہئیں، صرف محکمانہ کارروائی کافی نہیں، ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی کی غلطی سے معصوموں کی جان نہ جائے۔
وزیراعظم سے رابطے کے حوالے سے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سانحے کے بعد ان سے روزانہ رابطہ ہوتا ہے اور وزیراعظم کو واقعے پر بہت افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو کس نے تعینات کیا، سسٹم میں موجود لوگوں کو چلانا ان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے۔
بجٹ کے معاملے پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بجٹ فنانس ڈیپارٹمنٹ دیتا ہے، وزارت صحت صرف سفارش کرتی ہے، مانگا گیا بجٹ کبھی مکمل نہیں ملتا۔
انہوں نے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی بنانے کی رائے کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہر صورت ضروری ہے۔



