اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال سانحے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کا احتساب ہونا ہے تو اس کا آغاز مجھ سے ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ہم نیوز کے پروگرام “ہم دیکھیں گے” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود کو وزیراعظم اور تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش کیا ہے، کسی نے انہیں احتساب کے لیے پیش ہونے کا نہیں کہا اگران کی جانب سے کوئی کوتاہی ہوئی تو انہیں بھی جواب دینا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ وزارت صحت کی مجموعی ذمہ داری ان کی ہے، تاہم ہر تکنیکی تفصیل براہ راست وزیر کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ ہر اسپتال کی وائرنگ اور فائر سیفٹی کو خود جا کر چیک کرنا وزیر کی براہ راست ذمہ داری نہیں۔
وزارت سے متعلق انہوں نے کہا کہ انہیں عہدے یا وزارت کی کوئی فکر نہیں، 14 بچوں کی جانیں زیادہ اہم ہیں۔ صرف کسی سیکرٹری یا بیوروکریٹ کو ہٹانا کافی نہیں، معاملہ 14 بچوں کی جانوں کا ہے۔
استعفے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میرے استعفیٰ سے متعلق سوال کا جواب میرے پاس موجود ہے۔ لیکن وزیر اعظم کی ہدایات کے باعث اس وقت اس معاملے پر مزید بات نہیں کرسکتے۔ مناسب وقت پر صورتحال واضح ہوجائے گی اور ایک ہفتے یا 10 دن میں حقائق سامنے آجائیں گے۔ میں اس سے بڑی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔
سانحے کی تحقیقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے، رپورٹ ایک ہفتے میں نہیں بلکہ دو یا تین دن میں بھی آسکتی ہے۔ تحقیقات میں آگ لگنے کی وجوہات اور تمام کوتاہیوں کا تعین کیا جائے گا اور رپورٹ کی تمام سفارشات پر عمل کیا جائے گا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عمارت میں اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا، جبکہ آگ بجھانے کے لیے 36 میں سے 22 فائر سلنڈر استعمال کیے گئے۔
انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بچوں کے لواحقین کی تکلیف کا مکمل احساس ہے اور وہ سانحے سے لاتعلق ہو کر وزارت میں نہیں بیٹھے۔


