لندن میں لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز سابق وزیراعظم اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان کا انٹرویو نشر کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اسکائی اسپورٹس سے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔
یاد رہے سابق انگلش کپتان اور موجودہ اسکائی اسپورٹس براڈ کاسٹر مائیک ایتھرٹن نے عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم خان سے انٹرویو کیا جو بعد میں نشر بھی کردیا گیا۔عمران خان گزشتہ تین برس سے جیل میں ہیں اور گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ان کی صحت کا معاملہ خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
Pakistan threatened Lord’s Test boycott after broadcaster Sky Sports telecast interview with Imran Khan’s two sons which was actually recorded at the Lord’s Long Room a day before the Test. PCB wanted SKY not to air the interview during Lunch break else they wouldn’t take the… pic.twitter.com/Z6CGuC6I75
— Vikrant Gupta (@vikrantgupta73) August 27, 2026
کرک انفو کے مطابق پی سی بی نے لنچ بریک سے قبل ہی اسکائی اسپورٹس سے رابطہ کرکے پروگرام کے اس حصے پر احتجاج کیا تھا۔ پی سی بی کی جانب سے مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر انٹرویو نشر کیا گیا تو پاکستانی کھلاڑی لنچ کے بعد میدان میں واپس نہیں آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی اور اسکائی اسپورٹس کے درمیان ہونے والی گفتگو کے دوران براڈکاسٹر نے انٹرویو کچھ دیر کے لیے مؤخر کردیا، تاہم بعد میں 18 منٹ پر مشتمل انٹرویو نشر کردیا گیا۔
انٹرویو ختم ہونے تک پاکستانی کھلاڑی دوسرے سیشن کے لیے میدان میں واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔ کھلاڑیوں کو دوپہر 2 بج کر 40 منٹ پر میدان میں واپس آنا تھا۔
مائیک ایتھرٹن نے عمران خان کے بیٹوں سے یہ انٹرویو بدھ کی صبح لارڈز کے رائٹرز روم میں کیا تھا۔ اسکائی اسپورٹس نے اس ٹیسٹ میچ سے قبل اس انٹرویو کا ایک مختصر ٹیزر بھی نشر کیا تھا۔
پاکستان میں اس ٹیسٹ سیریز کی نشریات کرنے والے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) نے عمران خان کے بیٹوں کا یہ انٹرویو نشر نہیں کیا۔
عمران خان کی صحت سے متعلق معاملہ
عمران خان کی صحت گزشتہ چند ہفتوں سے مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جبکہ ان کے بیٹوں نے اپنے والد کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔
گزشتہ ہفتے پاکستان کی سپریم کورٹ نے عمران خان کو دارالحکومت اسلام آباد کے شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم انہیں شفا اسپتال کے بجائے سرکاری پمز اسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔
عمران خان کی بہنوں اور بیٹوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں شفا اسپتال منتقل نہ کرنا سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عمران خان کو اپنے ذاتی ڈاکٹر سے معائنہ کرانے کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سابق کپتانوں کا وزیراعظم شہباز شریف کو خط
عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کے اظہار کے لیے گزشتہ ہفتے 21 سابق کرکٹ کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط بھی لکھا تھا۔
خط لکھنے والوں میں مائیک ایتھرٹن بھی شامل تھے۔ ان سابق کپتانوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ عمران خان کو جیل میں مناسب طبی نگہداشت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
خط میں بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ سمیت مختلف ممالک کے سابق کپتان شامل تھے۔
یہ خط فروری میں 14 سابق کپتانوں کی جانب سے لکھے گئے پہلے خط کے بعد بھیجا گیا تھا۔ سابق کپتانوں کے مطابق پہلے خط کا پاکستان حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔
پاکستان نے میچ جاری رکھا
اسکائی اسپورٹس کی جانب سے عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کیے جانے کے باوجود پاکستان کرکٹ ٹیم مقررہ شیڈول کے مطابق میدان میں واپس آگئی اور میچ کا دوسرا سیشن جاری رکھا۔
کرک انفو کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ سے اس معاملے پر باضابطہ مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان حکومت نے گزشتہ ہفتے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ایک بیان میں عمران خان کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک کیے جانے یا انہیں اہل خانہ اور وکلا سے رابطے کی اجازت نہ دینے کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔
حکومت کے مطابق اگست 2023 میں گرفتاری کے بعد سے عمران خان سے ان کے اہل خانہ، وکلا اور ڈاکٹروں کی جانب سے 900 سے زائد ملاقاتیں کی جاچکی ہیں۔



