سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز کی مسجد بم دھماکے کے تانے بانے افغانستان سے مل گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کوہاٹ پولیس لائنز مسجد دھماکے میں ملوث ایک خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی جو افغان شہری تھا جبکہ دھماکے میں ملوث دوسرے دہشتگرد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کوہاٹ دھماکے میں افغان شہری کے ملوث ہونے پرطالبان ترجمان کا دوہرا چہرہ کھل کر سامنے آ گیا، افغان خودکش بمبار کی شناخت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ماہ غلام خان کے قریب افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرتے ہوئے 15 دہشتگرد مارے گئے تھے جبکہ شوال کے علاقے میں دراندازی کے دروان 5 خوارج جہنم واصل کیے گئے تھے۔
اس کے علاوہ کل رات کُرم کی سرحد پر تشکیل بارڈر پار کرنے کی کوشش کر رہی تھی جس کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔
دہشتگردوں کیخلاف کلیئرنس آپریشن 22 گھنٹے بعد مکمل
کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں گزشتہ روز نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے جبکہ دھماکے کے بعد کیا جانے والا کلیئرنس آپریشن تقریباً 22 گھنٹوں بعد مکمل کر لیا گیا، آپریشن کے دوران تمام 8 دہشتگرد مارے گئے۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، ایلیٹ فورس کمانڈوز، کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) ٹیموں اور سکیورٹی فورسز نے عمارت کے اہم حصوں کو کلیئر کر لیا۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید جائے وقوعہ پر موجود رہے اور جوانوں کا حوصلہ بڑھایا ، آئی جی کے مطابق خودکش بمبار نے قانون کے رکھوالوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم وہ اپنے مقصد میں ناکام رہا۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، آر پی او، ڈی پی او نے آپریشن کی قیادت کی
سینٹرل پولیس آفس کے بیان کے مطابق جی او سی کوہاٹ بھی آپریشن کے دوران موجود رہے ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ اور ڈی پی او کوہاٹ نے آپریشن کی قیادت کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے بعد کامیابی حاصل کی۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے آپریشن میں حصہ لینے والے افسران اور جوانوں کو شاباش دیتے ہوئے ان کے لیے انعامات کا اعلان کیا اور کہا کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز نے بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔
قبل ازیں آج کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے بیان میں بتایا گیا تھا کہ “ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) سی ٹی ڈی گزشتہ روز دوپہر سے فتنہ الخوارج کے خلاف جاری آپریشن میں فرنٹ لائن پر موجود ہیں۔”
دہشتگردوں کے گرنیڈ حملے میں ایڈیشنل آئی جی کا ہاتھ زخمی
سی ٹی ڈی کے بیان کے مطابق آپریشن کے دوران دہشتگردوں کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پر گرنیڈ حملہ کیا گیا، جس میں ان کا ہاتھ زخمی ہو گیا۔
علاوہ ازیں حملے کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کوہاٹ ہنگو روڈ پر واقع اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران تقریباً ایک بجکر 20 منٹ پر دھماکا ہوا، جس کے بعد دہشتگردوں نے حملہ بھی کیا۔ واقعے میں 15 پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد شہید اور 103 زخمی ہوئے تھے۔
کوہاٹ دھ م اکہ ، دل خر اش مناظر
#humnews https://t.co/DAtMMkLiEM— HUM News (@humnewspakistan) September 18, 2026
میڈیا پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دیکھا گیا تھا کہ متعدد شہری ایک عمارت کے قریب جمع ہیں، جس کی ایک دیوار منہدم ہو چکی ہے۔ لوگ ملبہ ہٹا کر زخمیوں کی مدد کر رہے ہیں۔
دھماکے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ گزشتہ رات پولیس لائنز کوہاٹ میں ادا کر دی گئی، بعد ازاں شہید ہونے والوں کے جسد خاکی کو ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دیا گیا۔



