راولپنڈی: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ان کی بہن نورین نیازی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کروا دی گئی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی اور یہ ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں کروائی گئی۔
ذرائع کے مطابق نورین نیازی نے ملاقات کے دوران عمران خان سے مختلف امورپرگفتگو کی، ملاقات مکمل ہونے کے بعد وہ اڈیالہ جیل سے روانہ ہوئیں تاہم انہوں نے وہاں موجود میڈیا نمائندوں سے گفتگوکرنے سے گریزکیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نورین نیازی کی یہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران عمران خان سے دوسری ملاقات ہے، ملاقات کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم پر 20 اگست کو جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب راولپنڈٰی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد میں واقع پمز اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔
تاہم واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ سابق وزیراعظم کا معائنہ نجی اسپتال الشفا انٹرنیشنل میں کروایا جائے مگر حکومت کا موقف تھا کہ الشفا انٹرنیشل اسپتال کے راستے میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی جس سے کسی گڑبڑ کے پیش نظر عمران خان کو پمز اسپتال لے جایا گیا۔
بعد ازاں سابق عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے حکومت کے اس اقدام کے خلاف سریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر سپریم کورٹ نے آج اعتراض لگا کر اسے واپس کردیا تھا۔
عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پردائرتوہین عدالت کی درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے قیدیوں کی میڈیکل رپورٹس طلب کرلیں
درخواست میں عمران خان کو علاج کے لیے شفا اسپتال منتقل کرنے اور ان کے میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بتایا تھا کہ درخواست میں جن افراد پر الزام عائد کیا گیا تھا ان کے نام کی فہرست درج نہیں تھی، اس لیے رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست پر اعتراض لگا کر اسے واپس کردیا تھا۔ تاہم بعد ازاں عمران خان کی بہن نے رجسٹرار سپریم کورٹ کا اعتراض دور کرکے آج توہین عدالت کی درخواست دوبارہ دائر کردی۔
