روم: اٹلی کی وزیراعطم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ حکومت اسکولوں میں غیر ملکی طلبا کی تعداد محدود کرنے اور تعلیمی اداروں میں برقع و نقاب پر پابندی کے لیے نیا قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جارجیا میلونی نے حکمران جماعت ”برادرز آف اٹلی” کے یوتھ ونگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسکول جانے والی ہر طالبہ کا چہرہ کھلا ہونا چاہیے، کسی نوجوان خاتون سے چہرہ ڈھانپنے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے تحت کلاس رومز میں غیر ملکی طلبا کی تعداد کی حد مقرر کی جائے گی، جبکہ غیر ملکی طلبا کے والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنا بھی لازمی قرار دیا جائے گا۔
جارجیا میلونی نے کہا کہ اگر کسی کلاس میں زبان نہ سمجھنے والے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجائے تو ان کا معاشرے میں انضمام مشکل ہوجاتا ہے۔
Big news from Italy 🇮🇹
Georgia Meloni just announced Italy will BAN face coverings in school.
The government will also have a limit on the number of foreign students in each classroom to avoid Italian children from becoming a minority.
And parents of students who have…
— PeterSweden (@PeterSweden7) September 20, 2026
ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت اٹلی کے اسکولوں میں زیرتعلیم غیر ملکی طلبا کی شرح 11.6 فیصد ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ہر 100 میں سے 12 طلبا غیر ملکی شہریت کے حامل ہیں۔
Italian PM Meloni:
The proposed measure will introduce an obligation for the parents of foreign students with serious school-integration problems to learn Italian, and it will introduce a ban on the burqa and niqab at school.
In Italy, nobody, in the name of a real or supposed… pic.twitter.com/zYm54QCYBD
— Clash Report (@clashreport) September 20, 2026
واضح رہے کہ فرانس، آسٹریا، بیلجیم، ڈنمارک، ہالینڈ اور سوئٹزرلینڈ سمیت بعض یورپی ممالک میں بھی چہرہ ڈھانپنے اور مذہبی لباس سے متعلق مختلف نوعیت کی پابندیاں پہلے سے نافذ ہیں۔



