ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہفتے کے روز دھوئیں کے سیاہ بادل اور شعلے دکھائی دیے جبکہ دارالحکومت اور قریبی شہر الخرج میں رات کے دوران ممکنہ خطرے کے ہنگامی الرٹس جاری کیے گئے۔
رائٹرز کے مطابق ریاض کے مختلف علاقوں سے دھماکوں جیسی آوازیں بھی سنی گئیں، ایئرپورٹ کے قریب سے سیاہ دھوئیں کا ایک بڑا بادل بلند ہوتا دکھائی دیا جبکہ ایئرپورٹ ہائی وے اور مرکزی ٹرمینل بھی منظر میں موجود تھے، سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے فوری طور پر دھوئیں کی وجہ سے متعلق رائٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔
سعودی سول ڈیفنس نے رات کے دوران ریاض اور الخرج میں شہریوں کے موبائل فونز پر ممکنہ خطرے کے الرٹس جاری کیے، جس کے بعد دونوں علاقوں میں خطرہ ٹلنے کا اعلان بھی کیا گیا، اطلاعات کے مطابق ریاض اور الخرج میں ہفتے کی صبح دوبارہ الرٹ جاری ہوا اور کچھ دیر بعد سول ڈیفنس نے صورتحال معمول پر آنے کی اطلاع دی۔
سعودی حکام نے شہریوں کیلئے ہدایات جاری کر دیں
سعودی حکام نے الرٹس کے دوران شہریوں کو کھلی جگہوں، شیشوں، بالکونیوں اور چھتوں سے دور رہنے، قریبی محفوظ عمارت میں پناہ لینے اور سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی، خطرہ ٹلنے کے بعد بھی شہریوں کو احتیاطی تدابیر جاری رکھنے کا کہا گیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں میں اسی نوعیت کے متعدد الرٹس جاری کیے جاچکے ہیں۔ جمعہ کی رات جدہ، طائف، ینبع، العلا، خمیس مشیط، جازان اور ابہا سمیت کئی علاقوں میں ممکنہ خطرے کے انتباہات جاری ہوئے تھے جنہیں بعد میں واپس لے لیا گیا۔
یہ پیش رفت یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے کے دوران سامنے آئی ہے۔ حوثیوں نے جولائی سے سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کیے ہیں اور بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جس سے خطے کی توانائی اور عالمی تیل سپلائی کے راستوں کو مزید خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
Alert: The danger has passed in Riyadh City. For your safety, continue following #CivilDefense instructions and avoid gathering and filming. In case of emergency, call (911). pic.twitter.com/ye38UePFfk
— الدفاع المدني السعودي (@SaudiDCD) September 19, 2026
سعودی وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور مقیم افراد کو سوشل میڈیا اور مختلف پلیٹ فارمز پر پیغامات یا معلومات شیئر کرنے سے قبل ان کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی ہے کہ ایسی معلومات کو آگے منتقل نہ کریں جن کے درست ہونے کی تصدیق نہ ہوئی ہو۔



