پمز کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 بچوں کی موت کے بعد میڈیا کے سامنے ‘جو ممکن تھا وہ کیا’ کے دعوے کرنے والے ڈاکٹر رانا عمران اسکندر جولائی 2025 میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے مستقل ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ای ڈی) مقرر ہوئے تھے۔
افسوسناک واقعے کے بعد پمز، اسلام آباد میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ “ہر چیز ای ڈی نے نہیں کرنی، ای ڈی نے سپروائز کرنا ہے اور الحمدللہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں نے سپرویژن ٹھیک کی۔”
تاہم یہ دعوے کرنے والے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نرسری کا داخلہ بند ہونے، فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے چلڈرن اسپتال کا گیٹ نہ کھلنے، اور اپنی نااہلی کے سوالوں کے جوابات نہ دے سکے۔
یاد رہے کہ جولائی 2025 میں پمز کو تقریباً 6 سال کے انتظار کے بعد رانا عمران سکندر کی شکل میں مستقل سربراہ ملا تھا۔ یہ تعیناتی ان کی ریٹائرمنٹ (2031) تک متوقع ہے۔
رانا عمران کی تقرری سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد عمل میں آئی جس میں فیکلٹی ممبرز کو گریڈ 21 کے اس عہدے پر تعینات کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
ڈاکٹر رانا عمران کی مستقل ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر تعیناتی کو پمز کے ہی کچھ سینیئر ڈاکٹرز اور فیکلٹی ممبران نے قوانین، سینیارٹی اور کوالیفکیشن کے معیار کے حوالے سے خلافِ قانون قرار دیتے ہوئے عدالتوں میں چیلنج کیا تھا اور اس تعیناتی پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
پمز کی سینیئر ڈاکٹر عائشہ عیسانی اور ڈاکٹر مطاہر شاہ نے ڈاکٹر عمران سکندر کی سینیارٹی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا ان کا مؤقف تھا کہ اس مستقل عہدے کے لیے میرٹ اور سینیارٹی لسٹ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
سینیئر ڈاکٹر اقبال درانی نے بھی وفاقی سروسز ٹریبونل اور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا ان کا قانونی مؤقف تھا کہ پمز جیسے بڑے اسپتال کے سربراہ کے لیے صرف مینجمنٹ کیڈر (انتظامی امور کے ماہرین) کے افسران ہی اہل ہونے چاہئیں، نہ کہ کلینکل یا تدریسی فیکلٹی کے ممبران یعنی ٹیچرز اور ڈاکٹرز۔
سینٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارشات پر یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا کہ ڈاکٹر رانا عمران سکندر کی کچھ اے سی آرز بطور شعبہ اینستھیزیا کے سربراہ کے لکھی گئی تھیں، جنہیں ای ڈی پمز کے مساوی گریڈ کے لیے رولز کے مطابق نہیں مانا جا رہا تھا۔
ان تمام قانونی پیچیدگیوں اور اعتراضات کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان تک پہنچا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ طبی ماہرین اور فیکلٹی ممبران کو بھی اسپتال کا سربراہ (ای ڈی) مقرر کیا جا سکتا ہے۔
اس عدالتی فیصلے کے بعد ہی ڈاکٹر رانا عمران کی مستقل تعیناتی کی راہ ہموار ہوئی اور انہیں مستقل سربراہ مقرر کیا گیا۔



