ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر کا کہنا ہے کہ ماضی میں بچے چوری ہونے کے واقعات کے باعث نرسری میں داخلہ محدود تھا،ریسکیو آپریشن کے دوران کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔
نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولد بچوں کی موت کے بعد پمز میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پمزاسپتال میں فائر سسٹم تسلی بخش حالت میں موجود تھا، آگ بجھانے کے 24 سلنڈرز
اس سانحے پر اپنی نااہلی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ “جو ممکن تھا ہم نے وہ کیا۔۔۔ہر چیز ای ڈی نے نہیں کرنی، ای ڈی نے سپروائز کرنا ہے اور الحمدللہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں نے سپرویژن ٹھیک کی۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی قائم ہو چکی ہے، اس کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔
رانا عمران نے کہا کہ ایک ڈاکٹر نے ایک نومولود کی جان بھی بچائی۔ تاہم ان کا یہ دعویٰ مذکورہ بچے کے وارثین کے بیان سے متصادم ہے جن کے مطابق وہ خود اپنے بچے کو آگ میں لپٹی نرسری سے نکال کر لائے۔
فائر برگیڈ کی گاڑیوں کے لیے چلڈرن اسپتال کا گیٹ نہ کھولے جانے اور نرسری کے دروازے بند ہونے کے سوال پر پمز کے سربراہ نے کہا کہ ماضی میں بچے چوری ہونے کے واقعات رونما ہوئے جس کے باعث نرسری میں داخلہ محدود تھا۔
طارق فضل چودھری نے کیا کہا؟
وفاقی وزیر پارلیمانی امورطارق فضل چودھری کا کہنا ہے کہ پمزاسپتال نرسری میں آگ لگنے کا واقعہ صبح پونے 7بجے پیش آیا،آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔
پمز اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پمزاسپتال نرسری میں آگ لگنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا،واقعے میں14نومولود بچے جاں بحق ہوئے ،صرف ایک نومولود بچے کوبچایا جا سکا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ 2ڈاکٹرز،2نرسز اورپیرامیڈیکل اسٹاف موجود تھا،وزیراعظم شہبازشریف نے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے،آگ آئی سی یو میں بہت تیزی سے پھیلی۔غفلت کے ذمہ داروں کوسزادی جائےگی۔آگ تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے آکسیجن اوراس کی لائنزتھیں۔



