وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے جب کہ ایک بچی کو ریسکیو کرلیا گیا،اب واقعہ میں زندہ بچ جانے والی واحد بچی کی خالہ کا بیان سامنے آیا ہے۔
اپنے ویڈیو بیان میں زندہ بچ جانے والی بچی کی خالہ کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی مدد آپ کے تحت بھانجی کو بچایا،جیسے ہی پتہ چلا اندر آگ لگی ہے، میں گئی اور بھانجی کو اُٹھا کر نکل آئی۔
خاتون نے الزام لگایا کہ جب میں وہاں اُسے اُٹھانے گئی تو ایک مرد ڈاکٹر تھا جو اپنا سر چُھپا کر وہاں سے بھاگ رہا تھا۔
والدین کا ردعمل
دوسری جانب والدین نے الزام لگایا ہے کہ ہم ہتھوڑوں سے شیشے توڑ کر وارڈ کے اندر داخل ہوئے ،تمام عملہ بھاگ گیا تھا، میں صرف یہ بتایا گیا کہ بچے جاں بحق ہو گئے ہیں، یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا، ہمارے بچے غائب کیے گئے، ہم میں سے کسی نے بچے کے کپڑے بھی نہیں دیکھے، ہمیں یہ یقین دہانی چاہیے کہ ہمارے بچے جھلس کر ہی مرے ہیں۔
ایک متاثرہ خاتون نے کہا کہ ایک گھنٹے تک کوئی بھی ڈاکٹر یا عملہ نہیں آیا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آگ لگے تو کسی اور وارڈ میں کسی ایک بھی شخص کو خراش تک نہیں آئی۔
وفاقی وزیر صحت کا کیا کہنا ہے؟
وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال کا پمز واقعہ پر کہنا تھا کہ چھٹی کے باوجود پمز میں عملہ ڈیوٹی پر موجود تھا، پمزنرسری میں آگ لگنے کے بعد بجلی چلی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام والدین کےساتھ رابطے میں ہیں، ڈی جی ہیلتھ اورسیکریٹری پمز میں موجودہیں، ایگزیکٹیوڈائریکٹر پمز بھی مجھ سے رابطے میں ہیں، میں خود بھی کراچی سے اسلام آباد پہنچ رہاہوں۔



