سپریم کورٹ کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حکم کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ سے رجو ع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے اسپتال میں میڈیکل چیک اپ اور انہیں اسپتال منتقل کرنے سے متعلق آج مشاورت ہوئی ہے، حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے اسپتال میں میڈیکل چیک اپ کے معاملے پر مشاورت کی گئی ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا جائے گا۔
وزیر قانون نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صرف اسپتال منتقلی کے معاملے پر ہی غور نہیں کیا جا رہا بلکہ سپریم کورٹ کے حکم نامے کے دیگر نکات پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عدالتی حکم کے تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لے کر قانونی راستہ اختیار کرے گی۔
اعظم نذیر تارڑ نے جیلوں میں موجود دیگر قیدیوں کی صحت کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی جیلوں میں ایسے بھی قیدی موجود ہیں جنہیں مختلف طبی مسائل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق سزایافتہ قیدیوں کو قانون کے تحت سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
وزیر قانون نے کہا کہ اگر کسی قیدی کو ایسا طبی علاج درکار ہو جس کی سہولت سرکاری اسپتال میں دستیاب نہ ہو تو اس صورت میں معاملہ مختلف ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے موجود قانونی طریقہ کار کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر قانون کے مطابق حکومت عدالتی حکم کے دیگر نکات پر بھی غور کر رہی ہے اور قانونی ٹیم کی مشاورت کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ میرٹ پر مبنی ہے، پی ٹی آئی نے بہت دیر کردی، رانا ثنااللہ
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کے نجی اسپتال شفاء انٹرنیشنل منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران حکم دیا کہ عمران خان کو سخت سکیورٹی میں اسپتال منتقل کیا جائے اور اسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
عدالت نے جیل سےاسپتال منتقلی کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کیلئے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسپتال میں عمران خان کے ہمراہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ہونگے۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو 2 روزمیں اسپتال منتقل کیا جائے، اسپتال کے اخراجات کے حوالے سے عدالت نے کہا کہ اخراجات عمران خان کی فیملی خود برداشت کرے گی جبکہ میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائیگی۔
اسپتال میں قیام کی مدت پر عدالت نے کہا کہ عمران خان آئندہ سماعت تک اسپتال میں رہیں گے۔ عدالت کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہفتے میں 2 بار بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرائی جائے، اس کے علاوہ ان کی میڈیکل رپورٹس میڈیا اور عوام میں شیئر کرنے پر پابندی ہو گی۔
عدالتی احکامات کی عدم پاسداری پر تمام مراعات واپس لی جاسکتی ہیں، یاد رہے کہ عدالت نے سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کی ہے جس کا مطلب ہے کہ عمران خان تقریباً ایک مہینہ شفاء انٹرنیشنل اسپتال رہیں گے۔
