وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مریضوں کو جدید علاج کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ سائنسی ترقی اور تحقیق کو بہتر طبی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں 7ویں سالانہ نیورو آنکولوجی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جے پی ایم سی سندھ کے طبی نظام میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور سندھ حکومت معیاری، قابلِ رسائی اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے ماہر افرادی قوت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی بھی ناگزیر ہے، نیورو آنکولوجی ایک پیچیدہ طبی شعبہ ہے جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین کے باہمی تعاون کے بغیر بہتر نتائج حاصل کرنا مشکل ہے۔
’کینسر کے علاج کے شعبے میں اہم پیش رفت‘
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اپنے طبی اداروں کو عالمی سطح پر ہونے والی طبی پیش رفت کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ جے پی ایم سی میں سائبر نائف اور ٹوموتھراپی جیسی جدید سہولیات کینسر کے علاج کے شعبے میں اہم پیش رفت ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستانی مریضوں کو جدید علاج کے حصول کے لیے بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے، اس مقصد کے لیے ملک میں جدید طبی ٹیکنالوجی تک رسائی مزید بڑھانے اور خصوصی طبی خدمات کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں مزید مراکزِ مہارت قائم کیے جانے چاہئیں جبکہ مقامی طبی مسائل کے حل کے لیے مقامی تحقیق اور شواہد کو فروغ دینا ہوگا۔ جامعات، تدریسی اسپتالوں اور تحقیقی اداروں کو طبی تحقیق کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
’سندھ حکومت طبی تعلیم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے‘
مراد علی شاہ نے نوجوان ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ تحقیق، سوال کرنے اور مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں، کیونکہ نوجوان طبی ماہرین ہی ملک کے صحت کے مستقبل کی تشکیل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت طبی تعلیم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ صحت کا نظام معیار، رسائی، جدت، ذمہ داری اور ہمدردی کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق نیورو آنکولوجی سمپوزیم طبی علم، تحقیق اور باہمی تعاون کے نئے مواقع فراہم کرے گا، جبکہ طبی ماہرین کی اجتماعی کوششوں سے مریضوں اور ان کے خاندانوں کو بہتر علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔



